محمد ریحان قریشی — اپریل 25، 2019 11:51 شام
پاس ہے ضابطوں کا چند، تیر نہیں تبر نہیں
لاگ ہے اپنے آپ سے، جنگ و جدل مگر نہیں
میں ہوں بدیع و شادماں یا کہ ملول و شرمسار
اس پہ قیاس کچھ نہ کر مجھ کو بھی کچھ خبر نہیں
رکھا ہوا ہے بخت نے کسوتِ ارتباط میں
یہ تو ہے سب پہ آشکار مجھ میں کوئی ہنر نہیں
بکھرے ہوئے ہیں سب خیال، شعر ہو کیوں نہ لخت لخت
ذہن کا ترجماں تو ہے، گرچہ کہ پراثر نہیں
میری قضا سے مسئلے سارے تو حل نہ ہو سکے
پر ہے شرف یہی بہت، کوئی بھی چشم تر نہیں
محمد وارث — اپریل 26، 2019 3:48 صبح
خوب غزل ہے قریشی صاحب، لاجواب!
محمد تابش صدیقی — اپریل 26، 2019 5:00 صبح
بہت عمدہ۔
پوری غزل ہی لاجواب
الف عین — اپریل 26، 2019 10:10 صبح
واہ، بہت اچھی غزل ہے
فرقان احمد — اپریل 26، 2019 10:23 صبح
ایک ایک شعر موتیوں جیسا ۔۔! بہت اعلیٰ! ایک نہایت عمدہ تخلیق جس پر شاعر کو بجا طور پر ناز ہو سکتا ہے ۔۔۔! شراکت کے لیے شکریہ ۔۔۔!
محمد ریحان قریشی — اپریل 26، 2019 1:51 شام
خوب غزل ہے قریشی صاحب، لاجواب!
حوصلہ افزائی پر بہت ممنون ہوں جناب۔
بہت عمدہ۔
پوری غزل ہی لاجواب
بہت شکریہ تابش بھائی!
بہت عنایت استادِ محترم۔
ایک ایک شعر موتیوں جیسا ۔۔! بہت اعلیٰ! ایک نہایت عمدہ تخلیق جس پر شاعر کو بجا طور پر ناز ہو سکتا ہے ۔۔۔! شراکت کے لیے شکریہ ۔۔۔!
آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا فرقان بھائی۔ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔ سدا خوش رہیے۔
La Alma — اپریل 27، 2019 8:28 صبح
بہت عمدہ!!
فرحان محمد خان — اپریل 27، 2019 6:05 شام
لاجواب غزل
یاسر شاہ — اپریل 28، 2019 5:10 صبح
عزیزم ریحان السلام علیکم !
محفل میں آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے -کبھی یہاں آپ سے رونقیں تھیں انھیں پھر سے بحال کیجیے -
آپ کی غزل پہ میں نے کچھ لکھنا تھا مگر جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے لکھنا موقوف -
:لوگ کہتیں ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے :
سحر کائنات — اپریل 28، 2019 5:13 صبح
بہت عمدہ
محمد ریحان قریشی — اپریل 28، 2019 7:32 صبح
آپ کی غزل پہ میں نے کچھ لکھنا تھا
ضرور لکھیے حضور ہم ہمہ تن گوش ہیں۔