ملک عدنان احمد — نومبر 14، 2015 8:14 صبح
مجھ کو گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی
سرخرو گر میں نہیں ، تو نہیں ناکام ابھی
دل کی جاگیر پہ قبضہ ہے تری یادوں کا
عہدِ الفت پہ بھی باقی ہے ترا نام ابھی
پھر سے بھجوادیے کیوں طعنوں کے گجرے تم نے
جب کہ تازہ تھا وہ گلدستہءِ دشنام ابھی
اتنی جلدی بھی کہاں درد مجھے چھوڑے گا
زخم تازہ ہے کہاں آئے گا آرام ابھی
کھیل تو نے ہی رچایا تھا تو آنکھیں تو نہ پھیر
دیکھتا جا کہ ہے باقی مرا انجام ابھی
آج ساقی کی نظر غیر پہ گاہے گاہے
نصف شب ہوگئی، خالی ہے مرا جام ابھی
بڑھتے جاؤ مرے ہمراہیو! بڑھتے جاؤ
دور منزل ہے، مناسب نہیں آرام ابھی
مدتیں گزری ہیں اس شخص سے بچھڑے احمدؔ
پھربھی لگتا ہے کہ بچھڑا ہے وہ گلفام ابھی
(ملک عدنان احمدؔ)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 14، 2015 4:22 شام
اچھی کاوش ہے بھائی ۔ خوش رہو۔ یہ شعر اچھا ہے ۔
پھر سے بھجوادیے کیوں طعنوں کے گجرے تم نے
جب کہ تازہ تھا وہ گلدستہءِ دشنام ابھی
مطلع کا دوسرا مصرع وزن میں نہیں ۔ یہاں " ہ" کا اسقاط نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ پڑھنے میں آتی ہے۔ یہ مصرع پھر دیکھ لیں ۔
ملک عدنان احمد — نومبر 15، 2015 6:22 شام
اچھی کاوش ہے بھائی ۔ خوش رہو۔ یہ شعر اچھا ہے ۔
پھر سے بھجوادیے کیوں طعنوں کے گجرے تم نے
جب کہ تازہ تھا وہ گلدستہءِ دشنام ابھی
مطلع کا دوسرا مصرع وزن میں نہیں ۔ یہاں " ہ" کا اسقاط نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ پڑھنے میں آتی ہے۔ یہ مصرع پھر دیکھ لیں ۔
بہت شکریہ برادر۔ یہ چیز مجھے بھی کھٹک رہی تھی لیکن اس سے ہٹ کر کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔۔ آپ ہی کچھ صلاح دیجئے۔۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 15، 2015 6:50 شام
اچھی غزل ہے۔ بہت خوب۔
ایک رائے ہے کہ کامیاب کی جگہ سرخرو کیسا رہے گا۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 16، 2015 3:15 صبح
بہت شکریہ برادر۔ یہ چیز مجھے بھی کھٹک رہی تھی لیکن اس سے ہٹ کر کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔۔ آپ ہی کچھ صلاح دیجئے۔۔
تابش صدیقی صاحب نے بہت اچھا متبادل لفظ دیا ہے ۔ آپ کےشعر کے بنیادی خیال اور موجودہ بنت کو توڑے بغیر ایک متبادل مطلع یوں ہو سکتا ہے :
مجھ کو گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی
سرخرو گر میں نہیں ، تو نہیں ناکام ابھی
(آپ کے پہلے مصرع میں گرچہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ بے محل بھی ہے ) ۔
ملک عدنان احمد — نومبر 16، 2015 10:53 صبح
اچھی غزل ہے۔ بہت خوب۔
ایک رائے ہے کہ کامیاب کی جگہ سرخرو کیسا رہے گا۔
بہت بہتر بھیا۔۔ ایسا ہی کر لیتے ہیں۔ آپکا مشورہ سر آنکھوں پر۔۔

ملک عدنان احمد — نومبر 16، 2015 10:55 صبح
تابش صدیقی صاحب نے بہت اچھا متبادل لفظ دیا ہے ۔ آپ کےشعر کے بنیادی خیال اور موجودہ بنت کو توڑے بغیر ایک متبادل مطلع یوں ہو سکتا ہے :
مجھ کو گھیرے ہوئے ہے گردشِ ایام ابھی
سرخرو گر میں نہیں ، تو نہیں ناکام ابھی
(آپ کے پہلے مصرع میں گرچہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ بے محل بھی ہے ) ۔
جی اب بہتر ہوگیا۔ غزل کو یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ جو کمی کوتاہی اپنا محاسبہ کرتے ہوئے نظرانداز ہورہی ہوں وہ آپ احباب کی عقابی نگاہ کا شکار ہو کر سامنے آجائیں

ملک عدنان احمد — نومبر 16، 2015 10:58 صبح
اب ایک مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ لڑی کی تدوین کے اختیارات نہیں رہے میرے پاس۔۔
