گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ ۔ کاشف اختر

کاشف اختر — جولائی 18، 2017 5:17 صبح
غم کا شعلہ پگھل نہ جائے کہیں
اشک بن کر نکل نہ جائے کہیں
پھر سے گلشن میں آگیا کوئی
پھر طبیعت بہل نہ جائے کہیں
گلگوں عارض ہے یا کوئی شعلہ
گلستاں پھر سے جل نہ جائے کہیں
ہم سے نظریں نہ پھیریو ساقی
رند تیرا سنبھل نہ جائے کہیں
ان سے کہدو نہ آئیں مقتل میں
دست قاتل پھسل نہ جائے کہیں
ہم کو ایسے نہ دیکھئے صاحب
پھر سے نیت بدل نہ جائے کہیں
خود ہی مقتل میں آگیا کاشف
اب کے دیکھو اجل نہ جائے کہیں
محمد تابش صدیقی — جولائی 18، 2017 5:49 صبح
بہت خوب کاشف بھائی۔
کاشف اختر — جولائی 18، 2017 7:28 صبح
بہت خوب کاشف بھائی۔

بہت شکریہ محترم ! ذرہ نوازی کے لئے ممنون ہوں
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 18، 2017 7:45 صبح
ہم سے نظریں نہ پھیریو ساقی
رند تیرا سنبھل نہ جائے کہیں
عمدہ کاشف بھائی
کاشف اختر — جولائی 18، 2017 2:49 شام

بہت شکریہ سر ! آپ جیسے سخنور سے داد وصول کرنا خوبی قسمت ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%D9%84%DA%AF%D9%88%DA%BA-%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D8%B6-%DB%81%DB%92-%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%B4%D8%B9%D9%84%DB%81-%DB%94-%DA%A9%D8%A7%D8%B4%D9%81-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1.97629/