گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا

محمد شکیل خورشید — مئی 6، 2022 2:16 شام
استاد محترم الف عین کی ہدایت پر کچھ طبع آزمائی کی ہے۔
گو جناب سید عاطف علی اور جناب عرفان علوی کے کلام کے آگے چراغ کو سورج دکھانے والی بات ہے
بھید ہے اتنی آن بان میں کیا
تم کو شک ہے تمہاری شان میں کیا
سارا جنگل ہے سانس روکے ہوئے
ہے شکاری کوئی مچان میں کیا
یہ جو رستہ بنا ہے لوگوں کا
ٹوٹی دیوار ہے مکان میں کیا
اس نُچی لاش پر کھڑے ہیں جو گدھ
مال باقی ہےکچھ دکان میں کیا
ایک دریا نے جھیل سے پوچھا
کچھ سکوں ہے تری امان میں کیا
یہ جو سنتے ہیں شوق سے سب لوگ
کچھ نئی بات ہے بیان میں کیا
یہ زمانہ ہے شور کا عادی
کہہ رہا ہے دبی زبان میں کیا
ساری دنیا ہے اس کی مدح سرا
میں نیا لکھوں اس کی شان میں کیا
شوقِ پرواز نے سوال کیا
ہوں میں محدود آسمان میں کیا
خالی دیوار پوچھتی ہے شکیل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
عرفان علوی — مئی 7، 2022 4:19 شام
استاد محترم الف عین کی ہدایت پر کچھ طبع آزمائی کی ہے۔
گو جناب سید عاطف علی اور جناب عرفان علوی کے کلام کے آگے چراغ کو سورج دکھانے والی بات ہے
بھید ہے اتنی آن بان میں کیا
تم کو شک ہے تمہاری شان میں کیا
سارا جنگل ہے سانس روکے ہوئے
ہے شکاری کوئی مچان میں کیا
یہ جو رستہ بنا ہے لوگوں کا
ٹوٹی دیوار ہے مکان میں کیا
اس نُچی لاش پر کھڑے ہیں جو گدھ
مال باقی ہےکچھ دکان میں کیا
ایک دریا نے جھیل سے پوچھا
کچھ سکوں ہے تری امان میں کیا
یہ جو سنتے ہیں شوق سے سب لوگ
کچھ نئی بات ہے بیان میں کیا
یہ زمانہ ہے شور کا عادی
کہہ رہا ہے دبی زبان میں کیا
ساری دنیا ہے اس کی مدح سرا
میں نیا لکھوں اس کی شان میں کیا
شوقِ پرواز نے سوال کیا
ہوں میں محدود آسمان میں کیا
خالی دیوار پوچھتی ہے شکیل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
شکیل صاحب ، عزت افزائی کا شکریہ ! آپ کی کوشش قابل تعریف ہے . داد قبول فرمائیے . اجازت ہو تو آپ كے غور و فکر كے لیے ایک دو باتیں عرض ہیں . شعر # 7 میں ’ کہہ رہا ہے‘ کا اِطْلاق ’زمانہ‘ پر بھی ہو رہا ہے جب کہ آپ کا اشارہ شاید مخاطب کی جانب ہے . یہاں ’کہہ رہے ہو‘ کر دیں تو موقف صاف ہو جائےگا . شعر # 9 میں ’ہوں میں‘ کو ’میں ہوں‘ کر دیں تو مصرعہ اور رواں ہو جائےگا . علاوہ ازیں شعر # 3 کو ایک بار اور دیکھ لیجیے اور سوچیے کہ کیا اسے غزل میں ہونا چاہیے .
سیما علی — مئی 7، 2022 4:41 شام
خالی دیوار پوچھتی ہے شکیل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
بہت زبردست
بہت زبردست
شکیل بھائی بہترین 🌷🌷🌷🌷🌷
محمد شکیل خورشید — مئی 7، 2022 9:56 شام
شکیل صاحب ، عزت افزائی کا شکریہ ! آپ کی کوشش قابل تعریف ہے . داد قبول فرمائیے . اجازت ہو تو آپ كے غور و فکر كے لیے ایک دو باتیں عرض ہیں . شعر # 7 میں ’ کہہ رہا ہے‘ کا اِطْلاق ’زمانہ‘ پر بھی ہو رہا ہے جب کہ آپ کا اشارہ شاید مخاطب کی جانب ہے . یہاں ’کہہ رہے ہو‘ کر دیں تو موقف صاف ہو جائےگا . شعر # 9 میں ’ہوں میں‘ کو ’میں ہوں‘ کر دیں تو مصرعہ اور رواں ہو جائےگا . علاوہ ازیں شعر # 3 کو ایک بار اور دیکھ لیجیے اور سوچیے کہ کیا اسے غزل میں ہونا چاہیے .
حوصلہ افزائی کا شکریہ، آپ کی اصلاح شامل سے مزید سیکھنے کو ملے گا جازک اللہ
الف عین — مئی 8، 2022 4:59 صبح
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید ، عرفان علوی کے مشورے بھی خوب ہیں، قبول کر لو
اشرف علی — مئی 8، 2022 7:17 صبح
ساری دنیا ہے اس کی مدح سرا
میں نیا لکھوں اس کی شان میں کیا
وااااہ ! واااااا
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 8، 2022 8:42 صبح
بہت خوب ۔۔۔
محمد شکیل خورشید — مئی 8، 2022 9:43 شام
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید ، عرفان علوی کے مشورے بھی خوب ہیں، قبول کر لو
حوصلہ افزائی کا شکریہ استادِ محترم، پہلے ہی قبول کر لئے عرفان علوی صاحب کے مشورے،۔
محمد شکیل خورشید — مئی 8، 2022 9:44 شام
حوصلہ افزائی کا شکریہ جناب
محمد شکیل خورشید — مئی 8، 2022 9:45 شام
پسندیدگی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — مئی 8، 2022 9:45 شام
بہت زبردست
بہت زبردست
شکیل بھائی بہترین 🌷🌷🌷🌷🌷
شکریہ بہن
محمداحمد — مئی 17، 2022 2:35 شام
سارا جنگل ہے سانس روکے ہوئے
ہے شکاری کوئی مچان میں کیا

ایک دریا نے جھیل سے پوچھا
کچھ سکوں ہے تری امان میں کیا

ساری دنیا ہے اس کی مدح سرا
میں نیا لکھوں اس کی شان میں کیا

بہت خوب! اچھے اشعار ہیں شکیل صاحب!
ایس ایس ساگر — مئی 17، 2022 6:55 شام
بھید ہے اتنی آن بان میں کیا
تم کو شک ہے تمہاری شان میں کیا
سارا جنگل ہے سانس روکے ہوئے
ہے شکاری کوئی مچان میں کیا
یہ جو رستہ بنا ہے لوگوں کا
ٹوٹی دیوار ہے مکان میں کیا
اس نُچی لاش پر کھڑے ہیں جو گدھ
مال باقی ہےکچھ دکان میں کیا
ایک دریا نے جھیل سے پوچھا
کچھ سکوں ہے تری امان میں کیا
یہ جو سنتے ہیں شوق سے سب لوگ
کچھ نئی بات ہے بیان میں کیا
یہ زمانہ ہے شور کا عادی
کہہ رہا ہے دبی زبان میں کیا
ساری دنیا ہے اس کی مدح سرا
میں نیا لکھوں اس کی شان میں کیا
شوقِ پرواز نے سوال کیا
ہوں میں محدود آسمان میں کیا
خالی دیوار پوچھتی ہے شکیل
گھر بنا تھا کبھی مکان میں کیا
بہت خوب ۔
خوبصورت اشعار ہیں۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2022 7:40 صبح
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں شکیل صاحب!
حوصلہ افزائی کا شکریہ محترم
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2022 7:40 صبح
بہت خوب ۔
خوبصورت اشعار ہیں۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
شکریہ جناب
گُلِ یاسمیں — مئی 19، 2022 7:43 صبح
بہت خوب شکیل بھائی۔
سلامت رہئیے۔
اکمل زیدی — مئی 19، 2022 7:43 صبح
شکیل صاحب باقاعدہ شاعر ہونے پر مبارکباد اور اس زمین کو عمدگی سے نبھانے پر بھی تبریک۔۔ماشاءاللہ خواب کہی غزل۔۔
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2022 9:57 شام
بہت خوب شکیل بھائی۔
سلامت رہئیے۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — مئی 19، 2022 9:57 شام
شکیل صاحب باقاعدہ شاعر ہونے پر مبارکباد اور اس زمین کو عمدگی سے نبھانے پر بھی تبریک۔۔ماشاءاللہ خواب کہی غزل۔۔
ممنون ہوں آپ کی حوصلہ افزائی کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DA%A9%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DB%8C%D8%A7.118422/