گھر نہیں گھر مگر کسی کسی کا

احمد بلال — اکتوبر 10، 2012 6:28 شام
میرے چھوٹے بھائی کی غزل جس پرآج اس نے یوتھ فیسٹیول کے مشاعرے میں اول انعام میں طلائی تمغہ بدستِ انور مسعود وصول کیا۔ یہ اس کی کسی بھی مشاعرے میں پہلی شرکت تھی۔
گھر نہیں گھر مگر کسی کسی کا
گھر ہے آباد پر کسی کسی کا
فرش سے عرش تک جو لے جائے
ایسا ہوتا ہے در کسی کسی کا
معتبر ہیں سبھی جو کہتے ہیں
ہے کہا معتبر کسی کسی کا
عشق وہ نور ہے کہ ہوتا ہے
اس سے آباد گھر کسی کسی کا
سر نگوں بھی ہیں سرفراز اس سے
نہیں جھکتا جو سر کسی کسی کا
سدرہ سے اس طرف جو لے جائے
ایسا ہوتا ہے پر کسی کسی کا
آہ کرتے تو ہیں حسین سبھی
نالہ ہے پُر اثر کسی کسی کا
عاطف بٹ — اکتوبر 10، 2012 6:31 شام
واہ، بہت خوب۔
کیا عمر ہے آپ کے بھائی کی اور کس جماعت میں پڑھتا ہے؟
نایاب — اکتوبر 10، 2012 6:35 شام
بہت خوب بہت گہرا کلام ۔
احمد بلال — اکتوبر 10، 2012 6:37 شام
شکریہ نایاب اور عاطف بٹ صاحب کا۔
وہ کالج میں ہے سیکنڈ ایئر میں۔اپنے کالج کی طرف سے گیا تھا۔
عاطف بٹ — اکتوبر 10، 2012 6:38 شام
وہ کالج میں ہے سیکنڈ ایئر میں۔اپنے کالج کی طرف سے گیا تھا۔
ماشاءاللہ۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔
نایاب — اکتوبر 10، 2012 6:39 شام
شکریہ نایاب اور عاطف بٹ صاحب کا۔
وہ کالج میں ہے سیکنڈ ایئر میں۔اپنے کالج کی طرف سے گیا تھا۔
ماشاءاللہ
اللہ کرے زور علم و عمل اور زیادہ آمین
احمد بلال — اکتوبر 10، 2012 6:42 شام
ماشاءاللہ
اللہ کرے زور علم و عمل اور زیادہ آمین
آمین
طارق شاہ — اکتوبر 11، 2012 6:50 صبح
گھر نہیں گھر، مگر کسی کسی کا
گھر ہے آباد، پر کسی کسی کا
بہت خوبصورت مطلع ہے
عشق وہ نور ہے، کہ ہوتا ہے
اِس سے آباد، گھر کسی کسی کا
کیا کہنے !
بہت ہی فصیح و بلیغ صاحب
آہ کرتے تو ہیں حسین سبھی
نالہ ہے پُر اثر کسی کسی کا
اچھا ہے!
شاید حسین تخلص کرتے ہے
بہت سی داد اور دعائیں اس غزل پرآپ اور آپ کے بھائی کے لئے
تشکّر یہاں ہم سے شیئر کرنے کا
بہت خوش رہیں
احمد بلال — اکتوبر 11، 2012 10:46 صبح
شکریہ طارق شاہ صاحب
اسلام الدین اسلام — اکتوبر 11، 2012 11:04 صبح
واہ واہ بہت عمدہ جناب کیا کہنے لگتا نہیں کے انٹرمیڈیٹ کے طالبعلم کی غزل ہے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DA%BE%D8%B1-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%D8%A7.55276/