گھٹن

فیصل عظیم فیصل — فروری 18، 2009 9:36 شام
ہ۔۔۔م خیالات کو کاغذ پہ بکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یرا کرتے
پرس۔۔کوں رہ کے تلاطم پہ بسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔را کرتے
ظلمتِ زیست نے گھ۔۔۔۔یرا ہے ازل سے ہم کو
ہم بھی اس عمر میں چاہ۔۔۔ت کا سویرا کرتے
کوئ۔ی ہم کو بھ۔۔۔ی سمجھتا کوئی تھپکی دیتا
ہم کسی کوکھلی بانہوں میں بھی گھیرا کرتے
آرزو ہ۔۔م کو ازل سے تھ۔۔ی ک۔وئی مل جاتا
اس سے روٹھاکبھی کرتےکبھی چھیڑاکرتے
ہائے افسوس مجھے ت۔۔۔یری محبت نہ م۔۔لی
سارا عال۔۔۔م بھی جو ہوتا اسے تیرا کرتے
ماوراء — فروری 19، 2009 10:04 شام
ہم خیالات کو کاغذ پہ بکھیرا کرتے
پرسکوں رہ کے تلاطم پہ بسیرا کرتے
بہت اچھے اشعار ہیں۔ خاص طور پر پہلا اور دوسرا۔
الف عین — فروری 20، 2009 6:53 صبح
لیکن اس میں ’چھیڑا‘ قافیہ کیسے آ گیا فیصل؟
اشعار تو اچھے ہیں۔
فیصل عظیم فیصل — فروری 21، 2009 10:55 شام
ہم خیالات کو کاغذ پہ بکھیرا کرتے
پرسکوں رہ کے تلاطم پہ بسیرا کرتے
ظلمتِ زیست نے گھیرا ہے ازل سے ہم کو
ہم بھی اس عمر میں چاہت کا سویرا کرتے
کوئی ہم کو بھی سمجھتا کوئی تھپکی دیتا
ہم کسی کوکھلی بانہوں میں بھی گھیرا کرتے
آرزو ہم کو ازل سے تھی ترے ملنے کی
گیسؤوں میں ترے ہم انگلیاں پھیرا کرتے
ہائے افسوس مجھے تیری محبت نہ ملی
سارا عالم بھی جو ہوتا اسے تیرا کرتے
الف عین — فروری 22، 2009 4:51 صبح
یہ شعر تو اس سے بھی بہتر ہو گیا ہے اب۔ مبارک ہو فیصل۔
فاتح — فروری 22، 2009 4:53 صبح
خوبصورت غزل پر مبارک باد قبول فرمائیے۔ مقطع تو انتہائی خوبصورت ہے۔
سید محمد نقوی — مارچ 2، 2009 2:06 شام
ہ۔۔۔م خیالات کو کاغذ پہ بکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یرا کرتے
پرس۔۔کوں رہ کے تلاطم پہ بسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔را کرتے
بہت خوبصورت غزل ہے۔
شکریہ
ایم اے راجا — مارچ 3، 2009 7:56 صبح
بہت خوب بہت ہی خوب کلام ہے، قریشی صاحب مبارک اور داد قبول ہو۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D9%86.19440/