ہائے غصے میں اسے کتنا سنا دیتے ہو

زویا شیخ — اپریل 23، 2018 11:34 صبح
یہ نیا درد جو ہر روز جگا دیتے ہو
اے مرے دوست مجھےکس کی سزا دیتے ہو
یہ مری ذات پہ کیا ظلم کیا کرتے ہو
جب بھی کرتے ہو کوئی وعدہ بھلا دیتے ہو
قتل ہوتا ہی نہیں مجھ سے مری خواہش کا
دل کے ارمان کو تم کیسے سُلا دیتے ہو
عشق کے کھیل میں تم مجھکو ملوث کرکے
جب بھی میں جیتنے لگتی ہوں ہرا دیتے ہو
چہرا پڑھنے کا ہُنر تم کو ہے آیا کیسے؟
حال چہرے سے مرا کیسے بتا دیتے ہو؟
جیب میں تیری بتا مجھکو ہے فوٹو کس کی
جب بھی میں دیکھتی ہوں جھٹ سے چھپا دیتے ہو
نام زویا کوئی لب پہ جو اپنے لے تو
ہائے غصہ میں اسے کتنا سنا دیتے ہو​
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 23، 2018 11:37 صبح
چہرے پڑھنے کا ہنر تم کو ہے آیا کیسے...؟
حال چہرے سے مرا کیسے بتا دیتے ہو...؟
واہ ! بہت خوب ۔
لئیق احمد — اپریل 23، 2018 12:14 شام
عشق کے کھیل میں تم مجھکو ملوث کرکے
جب بھی میں جیتنے لگتی ہوں ہرا دیتے ہو
زبردست - بہت اعلی
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 23، 2018 12:17 شام
خوبصورت۔ اوریجنل
لئیق احمد — اپریل 23، 2018 12:20 شام
زویا شیخ کی شاعری میں یہی سب سے بڑی خوبی نظر آتی کہ ہر غزل اوریجنل دل سے نکلی لگتی ہے۔
زویا شیخ — اپریل 24، 2018 5:42 صبح
زویا شیخ کی شاعری میں یہی سب سے بڑی خوبی نظر آتی کہ ہر غزل اوریجنل دل سے نکلی لگتی ہے۔
بہت شکریہ جناب ہنستے مسکراتے رہیں
زویا شیخ — اپریل 24، 2018 5:42 صبح
بہت شکریہ جناب
زویا شیخ — اپریل 24، 2018 5:43 صبح
بہت شکریہ جناب
زویا شیخ — اپریل 24، 2018 5:44 صبح
بہت شکریہ جناب
لئیق احمد — اپریل 24، 2018 5:51 صبح
بہت شکریہ جناب ہنستے مسکراتے رہیں
زویا شیخ صاحبہ میں آپ کی اس شاعری کو اپنی کہانی کی اگلی قسط میں آپ کی اجازت سے شامل کرنا چاہتا ہوں، اجازت ہے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%BA%D8%B5%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%AA%D9%86%D8%A7-%D8%B3%D9%86%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92-%DB%81%D9%88.101035/