ہائے میں اَس کا منتظَر ہی نہیں- ایک نئی غزل

محمد شکیل خورشید — جنوری 8، 2025 8:42 صبح
میری فریاد میں اثر ہی نہیں
ہائے میں اَس کا منتظَر ہی نہیں
دل میں کیسے مکین ہو کوئی
اس مکاں میں تو کوئی در ہی نہیں
راستے اور بھی ہیں دنیا میں
اک فقط تیری رہگزر ہی نہیں
سانحہ اک گزر گیا ہے یہاں
جن پہ گزرا انہیں خبر ہی نہیں
اور بھی ہیں مقام سجدے کے
اے بتِ ناز تیرا در ہی نہیں
کس کی باتوں کا اعتبار کریں
شہر میں کوئی معتبر ہی نہیں
چل دیا کیوں شکیل اس جانب
اِس گلی میں تو اُس کا گھر ہی نہیں​
محترم الف عین و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
صریر — جنوری 8، 2025 3:07 شام
سانحہ اک گزر گیا ہے یہاں
جن پہ گزرا انہیں خبر ہی نہیں

اور بھی ہیں مقام سجدے کے
اے بتِ ناز تیرا در ہی نہیں
بالکل، بہت خوب! 👍🏻👍🏻
الف عین — جنوری 9، 2025 6:23 صبح
میری فریاد میں اثر ہی نہیں
ہائے میں اَس کا منتظَر ہی نہیں
دل میں کیسے مکین ہو کوئی
اس مکاں میں تو کوئی در ہی نہیں
راستے اور بھی ہیں دنیا میں
اک فقط تیری رہگزر ہی نہیں
سانحہ اک گزر گیا ہے یہاں
جن پہ گزرا انہیں خبر ہی نہیں
اور بھی ہیں مقام سجدے کے
اے بتِ ناز تیرا در ہی نہیں
کس کی باتوں کا اعتبار کریں
شہر میں کوئی معتبر ہی نہیں
چل دیا کیوں شکیل اس جانب
اِس گلی میں تو اُس کا گھر ہی نہیں​
محترم الف عین و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
اچھی غزل ہے عزیزم، پسندآئی
محمد شکیل خورشید — جنوری 9، 2025 6:25 صبح
اچھی غزل ہے عزیزم، پسندآئی
بہت شکریہ استادِ محترم
آپ کی سندِ قبولیت ہمیشہ باعثِ فخر اور باعثِ طمانیت ہوتی ہے
محمد شکیل خورشید — مارچ 21، 2025 6:58 صبح
سیما علی
یہاں موجود ہوں، غائب نہیں ہوا، دیکھ لیں :)
سیما علی — مارچ 21، 2025 7:27 شام
چل دیا کیوں شکیل اس جانب
اِس گلی میں تو اُس کا گھر ہی نہیں
واہ کیا بات ہے
شکیل بھائی
بے حد کمال
سیما علی — مارچ 21، 2025 7:28 شام
کس کی باتوں کا اعتبار کریں
شہر میں کوئی معتبر ہی نہیں
بہت خوب
سلامت رہیے ۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%8E%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%B8%D9%8E%D8%B1-%DB%81%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84.121238/