ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے

عاطف ملک — جولائی 28، 2019 5:20 صبح
ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے
مان بھی جاؤ اب خدا کے لیے
اشک کرتے ہیں حال دل کا بیان
لفظ ملتے نہیں دعا کے لیے
حرفِ تسکیں کی بھیک ہے درکار
ایک مہجور و بے نوا کے لیے
مہر و الفت سے بڑھ کے کیا ہو گا
آج انسان کی بقا کے لیے
لاکھ مجھ پر زمانہ ڈھائے ستم
ہنس کے سہہ لوں تری رضا کے لیے
سر ہے در پر ترے جھکانے کو
اور زباں ہے تری ثنا کے لیے
کیسے خدشات سے لڑے تھے ہم
اک تعلق کی ابتدا کے لیے
اس کو آیا نہ رحم عاطفؔ پر
لاکھ ہم نے کہا خدا کے لیے
عاطفؔ ملک
جولائی ۲۰۱۹​
فلسفی — جولائی 28، 2019 6:24 صبح
سر ہے در پر ترے جھکانے کو
اور زباں ہے تری ثنا کے لیے
بے شک
کیسے خدشات سے لڑے تھے ہم
اک تعلق کی ابتدا کے لیے
کہا کہنے ڈاکٹر صاحب، واہ
محمد تابش صدیقی — جولائی 28، 2019 6:31 صبح
کیسے خدشات سے لڑے تھے ہم
اک تعلق کی ابتدا کے لیے
بہت عمدہ
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 28، 2019 4:36 شام
بہت اعلی عمدہ غزل ۔
سلامت رہیں بھیا۔
عاطف ملک — جولائی 29، 2019 7:40 صبح
بے شک
کہا کہنے ڈاکٹر صاحب، واہ
:)
:redheart:
بہت اعلی عمدہ غزل ۔
سلامت رہیں بھیا۔
بہت بہت شکریہ:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D8%AC%D9%88%DA%91%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%AC%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92.107828/