ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — جون 25، 2008 5:40 شام
وارث صاحب کا ارشاد تھا کہ ناچیز کی مزید کچھ تُک بندیاں محفل کے ماتھے پر بد نما داغ کے طور پر ضرور موجود ہونی چاہییں۔ تو خونِ دو عالم وارث صاحب کی گردن پر اور ایک مجموعۂ الفاظ، جسے شعرا و نقاد تکنیکی طور پر شاید "غزل" کا نام دیتے ہیں، حاضر خدمت ہے:

ہر نفَس اک وبال سا کچھ ہے
اب کے جینا محال سا کچھ ہے
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے
سر سے پا تک وہ آپ اپنا جواب
لب پہ میرے سوال سا کچھ ہے
روح پرور ہے کیا بدن اُس کا
نور نور اک جمال سا کچھ ہے
اس مسیحا کے دستِ قدرت سے
زخم میں اندمال سا کچھ ہے
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
فاتح الدین بشیر
امیداورمحبت — جون 25، 2008 6:06 شام
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
[/center]

اچھا ہے ۔ ۔ ۔اچھی کوشش ہے
الف عین — جون 25، 2008 6:34 شام
بہت اچھی غزل ہے فاتح۔۔ مبارک ہو۔۔
اعری میں کمال سا کچھ ہے۔
بلکہ اور کچھ نہیں کمال ہی ہے۔۔
ایم اے راجا — جون 25، 2008 6:44 شام
بہت ہی پیاری غزل سے نوازنے کا شکریہ، داد قبول ہو فاتح صاحب۔ شکریہ۔
فرخ منظور — جون 25، 2008 6:45 شام
واہ واہ قبلہ کیا اچھی غزل ہے - مزید کلام بھی عنایت کیجیے گا - :)
محمد وارث — جون 26، 2008 4:20 صبح
اجی بہت شکریہ فاتح صاحب، آپ نے اس خاکسار کی بات مان لی، دل خوش ہو گیا، اللہ آپ کا حج کرائے۔ :)
اس غزل کی ردیف لا جواب ہے، واہ واہ سبحان اللہ۔
تمام اشعار ہی لا جواب ہیں، بہت داد قبول کیجیئے، لیکن یہ اشعار تو بہت پسند آئے،
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے
اس مسیحا کے دستِ قدرت سے
زخم میں اندمال سا کچھ ہے
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
لا جواب۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے کلام سے ہمیں نوازتے رہیں گے۔
فاتح — جون 26، 2008 5:07 صبح
اچھا ہے ۔ ۔ ۔اچھی کوشش ہے

بہت شکریہ۔ دعا کیجیے کہ یہ کوششیں بارآور ثابت ہوں۔
فاتح — جون 26، 2008 5:08 صبح
بہت اچھی غزل ہے فاتح۔۔ مبارک ہو۔۔
شاعری میں کمال سا کچھ ہے۔
بلکہ اور کچھ نہیں کمال ہی ہے۔۔

بہت شکریہ اعجاز صاحب۔ یقین کیجیے آپ سے یوں داد پا کر نہال ہو گیا ہوں۔
فاتح — جون 26، 2008 5:12 صبح
بہت ہی پیاری غزل سے نوازنے کا شکریہ، داد قبول ہو فاتح صاحب۔ شکریہ۔

پذیرائی کا شکریہ راجا صاحب۔
فاتح — جون 26، 2008 5:13 صبح
واہ واہ قبلہ کیا اچھی غزل ہے - مزید کلام بھی عنایت کیجیے گا - :)

حضور! آپ سے ناقد کی مزید آرا کا منتظر ہوں۔ ذرا اس کا پوسٹ مارٹم بھی ہو جائے۔;)
فاتح — جون 26، 2008 5:22 صبح
اجی بہت شکریہ فاتح صاحب، آپ نے اس خاکسار کی بات مان لی، دل خوش ہو گیا، اللہ آپ کا حج کرائے۔ :)
اس غزل کی ردیف لا جواب ہے، واہ واہ سبحان اللہ۔
تمام اشعار ہی لا جواب ہیں، بہت داد قبول کیجیئے، لیکن یہ اشعار تو بہت پسند آئے،
ہے ہم آغوش چاند دریا سے
ہجر محوِ وصال سا کچھ ہے
اس مسیحا کے دستِ قدرت سے
زخم میں اندمال سا کچھ ہے
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
لا جواب۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے کلام سے ہمیں نوازتے رہیں گے۔

قبلہ وارث صاحب! آپ کی داد کے بعد حج کا ثواب نذر کرنا تو مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر کہ سرتابی کی مجال ہی کس میں ہے۔
محمد وارث — جون 26، 2008 7:19 صبح
قبلہ وارث صاحب! آپ کی داد کے بعد حج کا ثواب نذر کرنا تو مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر کہ سرتابی کی مجال ہی کس میں ہے۔

حضور اگر اسطرح حج کا ثواب نذر کریں گے تو پھر کرتے ہی رہیئے، میں منتظر ہوں کہ لذتِ انتظار کا قتیل ہوں۔ :)
فاتح — جون 26، 2008 11:59 صبح
حضور اگر اسطرح حج کا ثواب نذر کریں گے تو پھر کرتے ہی رہیئے، میں منتظر ہوں کہ لذتِ انتظار کا قتیل ہوں۔ :)

قبلہ یہ تو کوئی ہم سے پوچھے کہ آپ قتیل ہیں یا قاتل:)
مغزل — جون 26، 2008 12:12 شام
رسید حاضر ہے ۔ مراسلہ بجلی آنے تک موقوف۔
امر شہزاد — جون 26، 2008 12:42 شام
کس کی آمد ہے صحنِ گلشن میں
پتّا پتّا نہال سا کچھ ہے
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
[/center]

بہت پیارا مطلع اور پھر یہ دونوں شعر بہت پسند آئے۔
واہ!
محمداحمد — جون 26، 2008 12:47 شام
فاتح صاحب
غزل بہت عمدہ ہے، تقریباً سب ہی اشعار لایقِ تحسین ہے۔ ناچیز کی جانب سے داد حاضر ہے۔ قبول کیجے۔
فاتح — جون 27، 2008 10:42 صبح
فاتح صاحب
غزل بہت عمدہ ہے، تقریباً سب ہی اشعار لایقِ تحسین ہے۔ ناچیز کی جانب سے داد حاضر ہے۔ قبول کیجے۔

محمد احمد صاحب یہ آپ کی محبت ہے کہ اس قابل سمجھا۔ بہت شکریہ
فاتح — جون 27، 2008 10:43 صبح
رسید حاضر ہے ۔ مراسلہ بجلی آنے تک موقوف۔

رسید وصول پائی۔ بجلی گرنے کا انتظار رہے گا۔
فاتح — جون 27، 2008 10:44 صبح
بہت پیارا مطلع اور پھر یہ دونوں شعر بہت پسند آئے۔
واہ!

پذیرائی کا بہت شکریہ امر شہزاد صاحب۔
ہما — جون 30، 2008 8:12 صبح
آنکھ کو مل رہی ہے گویائی
خامشی میں کمال سا کچھ ہے
نفیس لکھا آپ نے ۔۔۔۔۔ !
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%AC%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%88%D9%90-%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84-%D8%B3%D8%A7-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DB%81%DB%92-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.13444/