ظہیراحمدظہیر — ستمبر 26، 2016 5:17 صبح
غزل
تہذیب و تمدن کے ذخیروں کا سفر ہے
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے
ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے
مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے
رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے
منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے
آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۴
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 5:23 صبح
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے
عنوان میں یہ پہلا مصرع پڑھا، یقین کیجئے، لطف آگیا، ایک ہی مصرع پورا شعر ہے، ابھی تک شعر بھی نہیں پڑھا پہلے یہ مراسلہ بھیج رہا ہوں۔
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 5:26 صبح
رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے
منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے
واہ واہ واہ ۔۔۔ کیا کہنے کیا کہنے۔۔ مزہ آگیا ظہیر بھائی ۔ ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت بہت داد قبول ہوصاحب واہ ۔۔۔
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 5:27 صبح
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
محمد بلال اعظم — ستمبر 26، 2016 5:30 صبح
واہ واہ واہ
کس کس شعر کا انتخاب کروں
منفرد زمین
نغمگی، سلاست، روانی
کیا نہیں ہے اس غزل میں!
بہت سی داد
محمد تابش صدیقی — ستمبر 26، 2016 5:50 صبح
واہ واہ ظہیر بھائی۔ لاجواب غزل ہے۔ ایک ایک شعر سوچنے پر مجبور کرتا ہوا۔
تہذیب و تمدن کے ذخیروں کا سفر ہے
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے
ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے
مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے
رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے
منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے
آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 26، 2016 5:53 صبح
عنوان میں یہ پہلا مصرع پڑھا، یقین کیجئے، لطف آگیا، ایک ہی مصرع پورا شعر ہے، ابھی تک شعر بھی نہیں پڑھا پہلے یہ مراسلہ بھیج رہا ہوں۔
واہ واہ واہ ۔۔۔ کیا کہنے کیا کہنے۔۔ مزہ آگیا ظہیر بھائی ۔ ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت بہت داد قبول ہوصاحب واہ ۔۔۔
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
محمد بھائی آپ کی محبت کا تمغہ وصول ہوا !! بہت بہت شکریہ!! اللہ آپ کو سلامت رکھے !!
یہ شعر آپ کی نذر!
آزادیء اظہار کی بے نام کہانی !
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے


محمد تابش صدیقی — ستمبر 26، 2016 5:55 صبح
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
غزل والی پوسٹ پر تو اپنی طرف سے ریٹنگ دی ہے۔ آپ کی طرف سے ظہیر بھائی کے جواب پر زبردست کی ریٹنگ دے دی ہے۔

جاسمن — ستمبر 26، 2016 6:33 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے۔ پہلا شعر تو عمرانیات کا ہے۔لگتا ہے یہ مضمون آپ کے زیرِ مطالعہ بھی رہا ہے۔
بہر حال بہت ساری داد وصول کریں۔
سید عاطف علی — ستمبر 26، 2016 6:58 صبح
واہ۔ کیا تراش ہے ۔
نایافت جزیروں کا سفر
ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر
ایم اے راجا — ستمبر 26، 2016 9:27 صبح
واہ واہ بہت عمدہ ظہیر بھائی
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 10:23 صبح
غزل والی پوسٹ پر تو اپنی طرف سے ریٹنگ دی ہے۔ آپ کی طرف سے ظہیر بھائی کے جواب پر زبردست کی ریٹنگ دے دی ہے۔
شکریہ تابش میاں ، بہت نوازش


ربیع م — ستمبر 26، 2016 10:25 صبح
بہت اعلٰی ماشاء اللہ
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
لیں جی ہم نے ایثار سے کام لیتے ہوئے اپنے بجائے آپ کی جانب سے زبردست کی ریٹنگ داغ دی!!
اکمل زیدی — ستمبر 26، 2016 10:45 صبح
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
آپ کا mouse کام نہیں کر رہا یا ریٹنگ سٹیٹس نہیں آرہا . . .

محمد تابش صدیقی — ستمبر 26، 2016 10:58 صبح
آپ کا mouse کام نہیں کر رہا یا ریٹنگ سٹیٹس نہیں آرہا . . .
عدم ادائیگی کے باعث صارف کی ریٹنگ کی سہولت معطل کر دی گئی ہے۔

ادب دوست — ستمبر 26، 2016 1:48 شام
ادب دوست — ستمبر 26، 2016 1:49 شام
محمداحمد — ستمبر 29، 2016 9:19 صبح
ظہیر بھائی!
قبلہ بہت ہی خوبصورت کلام! ہمیشہ کی طرح!
ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے
زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے
مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے
رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے
آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے
سمجھ نہیں آتا کہ سر دُھنوں یا اشعار کی تعریف کروں۔
اور کروں تو کس کس شعر کی تعریف کروں۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔
بہت ہی خوب!
مولا خوش رکھے آپ کو۔

محمداحمد — ستمبر 29، 2016 9:20 صبح
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
غزل والی پوسٹ پر تو اپنی طرف سے ریٹنگ دی ہے۔ آپ کی طرف سے ظہیر بھائی کے جواب پر زبردست کی ریٹنگ دے دی ہے۔
تابش بھائی کی طرز پر ہم نے بھی بھی آپ کی ریٹنگ پہنچا دی ہے۔

محمداحمد — ستمبر 29، 2016 9:21 صبح
حُسن کو احتیاط لازم ہے
ہر نظر پارسا نہیں ہوتی
