ہر روز تازہ حادثہ جب ہو گیا کہیں

ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 6:16 شام
ہر روز تازہ حادثہ جب ہو گیا کہیں
تھک ہار کر ضمیر مرا سوگیا کہیں
کھولی تھی جس میں آنکھ جوانی کے خواب نے
وہ رَت جگوں کا شہر مرا کھوگیا کہیں
کچھ دیر کو ملے تھے سر ِراہ ِاحتیاج
پھر یوں ہوا کہ میں کہیں ، اور وہ گیا کہیں
اُگتی ہے کشتِ ذات میں مایوسیوں کی پود
کچھ خواہشوں کے بیج کوئی بوگیا کہیں
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۱۳​
فاتح — مارچ 2، 2016 7:29 شام
وہ رَت جگوں کا شہر مرا کھوگیا کہیں
واہ کیا کہنے ظہیر بھائی
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 8:09 شام
کیا کہنے ظہیر بھائی، تلخ حقیقت کو کتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے.
ہر روز تازہ حادثہ جب ہو گیا کہیں
تھک ہار کر ضمیر مرا سوگیا کہیں
سید اسد معروف — مارچ 4، 2016 8:48 صبح
عمدہ خیال ہے
کچھ دیر کو ملے تھے سر ِراہ ِاحتیاج
پھر یوں ہوا کہ میں کہیں ، اور وہ گیا کہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%81-%D8%AC%D8%A8-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA.88416/