نمرہ — اگست 6، 2019 11:57 صبح
ہر صورت میں چہرہ اس کا دیکھا ہے
بستی بستی صحرا صحرا دیکھا ہے
ایسی تنہائی میں کون مخل ہو گا
شاید میں نے اپنا سایا دیکھا ہے
کچھ تو میری فہم بھی آڑے آئی ہے
میں نے جیسا سمجھا ویسا دیکھا ہے
چاند ستارے سب موجود رہے شب بھر
اس نے پھر بھی میرا سپنا دیکھا ہے
جس کو آنکھوں میں برسوں ٹھہرایا تھا
اس کو اپنے دل سے جاتا دیکھا ہے
ایک شکستِ پیہم مچتی رہتی ہے
جب سے اس کو بکھرا بکھرا دیکھا ہے
ان کی تاب و تب یہ صاف بتاتی ہے
ان آنکھوں نے کاہے دھوکا دیکھا ہے
کیا سندیسہ بھجواؤں شہزادے کو
میں نے خواب میں اس کو تنہا دیکھا ہے
اس سے رخصت ہو کر میں نے پہروں تک
اس کے گھر کو جاتا رستا دیکھا ہے
آئینے سے اکثر پوچھتی رہتی ہوں
اس نے مجھ میں ایسا بھی کیا دیکھا ہے
محمد عدنان اکبری نقیبی — اگست 6، 2019 12:14 شام
زبرست لاجواب اشعار ۔
بہترین غزل
نمرہ — اگست 6، 2019 12:18 شام
زبرست لاجواب اشعار ۔
بہترین غزل
شکریہ


ابن رضا — اگست 6، 2019 3:33 شام
کچھ تو میری فہم بھی آڑے آئی ہے
میں نے جیسا سمجھا ویسا دیکھا ہے
بہت خوب
الف عین — اگست 7، 2019 6:43 صبح
واہ اچھی غزل ہے 'سمت' میں لیے جانے کے قابل! مکمل نام سے آگاہ کرو۔ اور مزید غزلیں بھی ذاتی مراسلہ میں بھیجو
معظم علی کاظمی — اگست 8، 2019 12:27 شام
اس بحر میں فیسبک کے سستے شاعر اکثر لکھتے ہیں۔
نمرہ — اگست 8، 2019 12:33 شام
واہ اچھی غزل ہے 'سمت' میں لیے جانے کے قابل! مکمل نام سے آگاہ کرو۔ اور مزید غزلیں بھی ذاتی مراسلہ میں بھیجو
بالکل بھیجتی ہوں۔
نمرہ — اگست 8، 2019 12:35 شام
اس بحر میں فیسبک کے سستے شاعر اکثر لکھتے ہیں۔
بھئی میں بھی وہیں کی سستی شاعر ہوں، انسٹا کی تھوڑا ہی ہوں۔ بحر تو شاید ترنم کی وجہ سے پسند ہوتی ہے لوگوں کو۔
میم الف — اگست 8، 2019 1:02 شام
ہر صورت میں چہرہ اس کا دیکھا ہے
بستی بستی صحرا صحرا دیکھا ہے
بستی بستی دیکھا ہے
مانا جا سکتا ہے
صحرا صحرا دیکھا ہے
مشکل ہے ماننا
نمرہ — اگست 8، 2019 1:14 شام
بستی بستی دیکھا ہے
مانا جا سکتا ہے
صحرا صحرا دیکھا ہے
مشکل ہے ماننا
تھوڑا ڈھونڈنے والا مطلب آ جاتا ہے صحرا کے ساتھ۔
فاخر رضا — اگست 8، 2019 1:22 شام
اس بحر میں فیسبک کے سستے شاعر اکثر لکھتے ہیں۔
جل گیا برنول لگائیے
کیڑے نے کاٹا برنول لگائیے
جلن دور کرنے والا ایبٹ کا برنول
نمرہ — اگست 8، 2019 1:35 شام
جل گیا برنول لگائیے
کیڑے نے کاٹا برنول لگائیے
جلن دور کرنے والا ایبٹ کا برنول
آزادیء اظہار بھئی۔ رائے لینے کے لیے تو غزل لگاتے ہیں ادھر۔
فاخر رضا — اگست 8، 2019 2:58 شام
آزادیء اظہار بھئی۔ رائے لینے کے لیے تو غزل لگاتے ہیں ادھر۔
آپ نے اچھی غزل لکھی ہے. اس کی اصلاح یا بہتری ہوسکتا ہے ممکن ہو مگر اس طرح کے کمینٹ کہ سستی فیسبکی شاعر وغيرہ. اسکی کیا تک تھی
نمرہ — اگست 8، 2019 3:21 شام
آپ نے اچھی غزل لکھی ہے. اس کی اصلاح یا بہتری ہوسکتا ہے ممکن ہو مگر اس طرح کے کمینٹ کہ سستی فیسبکی شاعر وغيرہ. اسکی کیا تک تھی
اول تو انہوں نے مجھے کہا نہیں بطور خاص۔ دوم کہا بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے

نیرنگ خیال — اگست 8، 2019 3:27 شام
ایسی تنہائی میں کون مخل ہو گا
شاید میں نے اپنا سایا دیکھا ہے
مکمل غزل ہی بہت اعلیٰ ہے۔ داد قبول فرمائیں۔
نمرہ — اگست 8، 2019 3:28 شام
مکمل غزل ہی بہت اعلیٰ ہے۔ داد قبول فرمائیں۔

میم الف — اگست 8، 2019 3:48 شام
ایسی تنہائی میں کون مخل ہو گا
شاید میں نے اپنا سایا دیکھا ہے
آپ ’سائے‘ دیکھتی ہیں
اپنے دستخط میں ’آسیبی آہیں‘ لکھتی ہیں
بعض محفلین نرم و نازک دل والے ہیں
(جیسے بھائی
محمد عدنان اکبری نقیبی)
وہ ایسی باتوں سے خوفزدہ ہو سکتے ہیں

میم الف — اگست 8، 2019 4:09 شام
کچھ تو میری فہم بھی آڑے آئی ہے
میں نے جیسا سمجھا ویسا دیکھا ہے
حکیمانہ!
نمرہ — اگست 8، 2019 4:32 شام
عبید انصاری — اگست 8، 2019 4:32 شام
اول تو انہوں نے مجھے کہا نہیں بطور خاص۔ دوم کہا بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے
واہ! یہ مراسلہ غزل سے بھی زیادہ اچھا لگا۔