ہر کسی سے نا دل لگایا کر۔ عمر سیف

عمر سیف — اکتوبر 23، 2016 7:52 شام
غزل
ہر کسی سے نہ دل لگایا کر
میں جو کہتا ہوں مان جایا کر
دن چڑھے مجھ کو یاد کر لے تُو
شام ہوتے ہی بھول جایا کر
میری ہر بات بھول کر جاناں
اپنی باتیں مجھے سنایا کر
رنگ بھر دے تمام پھولوں میں
میری جاں اور مسکرایا کر
روز آنکھیں بچھا کے بیٹھ کہیں
پھر سرِ شام لوٹ جایا کر
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھے یاد بھی نہ آیا کر
عمر اس شہر کے اندھیرے میں
دیپ چاہت کے تو جلایا کر
عمر سیف
عمر سیف — اکتوبر 24، 2016 2:44 شام
اس غزل پہ بھی نظر کرم ہو
فاخر رضا — اکتوبر 24، 2016 2:46 شام
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھےیاد بھی نہ آیا کر
بہت ہی اچھی غزل ہے
عمر سیف — اکتوبر 24، 2016 2:48 شام
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھےیاد بھی نہ آیا کر
بہت ہی اچھی غزل ہے
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 24، 2016 3:40 شام
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھے یاد بھی نہ آیا کر
عمر اس شہر کے اندھیرے میں
دیپ چاہت کے تو جلایا کر
بہت خوب
نایاب — اکتوبر 24، 2016 4:27 شام
واہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ہر بات بھول کر جاناں
اپنی باتیں مجھے سنایا کر
رنگ بھر دے تمام پھولوں میں
میری جاں اور مسکرایا کر
بہت دعائیں
عمر سیف — اکتوبر 24، 2016 8:45 شام
واہہہہہہہہہہہہ
کیا خوب کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
:)
الف عین — اکتوبر 24، 2016 8:51 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔
عندلیب — اکتوبر 24، 2016 8:51 شام
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھے یاد بھی نہ آیا کر
عمدہ !!
عمر سیف — اکتوبر 24، 2016 8:52 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔
آپ کے تبصرے کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔ :)
عمر سیف — اکتوبر 24، 2016 8:52 شام
مجھ سے گر فاصلے بڑھانے ہیں
تو مجھے یاد بھی نہ آیا کر
عمدہ !!
:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D8%B1-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D9%86%D8%A7-%D8%AF%D9%84-%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%94-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D9%81.92678/