ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 5:00 شام
ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا
منزل سے دلفریب نظارہ سفر کا تھا
جب تک امید ِ منزل ِ جاناں تھی ہمقدم
دل کو ہر اک فریب گوارا سفر کا تھا
رہبر نہیں نصیب میں شاید مرے لئے
جو ٹوٹ کر گرا ہے ، ستارہ سفر کا تھا
رُکنے پہ کر رہا تھا وہ اصرار تو بہت
مجبوریوں میں اُس کی اشارہ سفر کا تھا
آتی تھی اُس کے پاؤں سے زنجیر کی صدا
سامان گرچہ کاندھوں پہ سارا سفر کا تھا
نکلا تلاش ِ ذات کا ساحل بھی نامراد
دریا کے اُس طرف بھی کنارہ سفر کا تھا
رستہ کٹا تو ساتھی یہ کہہ کر الگ ہوئے
منزل بخیر ! ساتھ ہمارا سفر کا تھا
لوٹا تو پھرملی مجھے تحفے میں اک کتاب
دیکھا تو ایک تازہ شمارہ سفر کا تھا
بستی میں ہم ٹھہر کے تو بے آسرا ہوئے
خانہ بدوش تھے تو سہارا سفر کا تھا
راہیں الگ ہوئیں تو یہ مجھ پر کھُلا ظہیر
وہ ہمسفر نہیں تھا ، خسارہ سفر کا تھا
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۵
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 5:23 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔
رہبر نہیں نصیب میں شاید مرے لئے
جو ٹوٹ کر گرا ہے ، ستارہ سفر کا تھا
رُکنے پہ کر رہا تھا وہ اصرار تو بہت
مجبوریوں میں اُس کی اشارہ سفر کا تھا
آتی تھی اُس کے پاؤں سے زنجیر کی صدا
سامان گرچہ کاندھوں پہ سارا سفر کا تھا
راہیں الگ ہوئیں تو یہ مجھ پر کھُلا ظہیر
وہ ہمسفر نہیں تھا ، خسارہ سفر کا تھا
اوشو — مارچ 2، 2016 5:27 شام
بہت اعلیٰ جناب !
محمد بلال اعظم — مارچ 2، 2016 5:40 شام
جب تک امید ِ منزل ِ جاناں تھی ہمقدم
دل کو ہر اک فریب گوارا سفر کا تھا
آہا
رُکنے پہ کر رہا تھا وہ اصرار تو بہت
مجبوریوں میں اُس کی اشارہ سفر کا تھا
کمال
آتی تھی اُس کے پاؤں سے زنجیر کی صدا
سامان گرچہ کاندھوں پہ سارا سفر کا تھا
پاؤں سے زنجیر کی صدا
کاندھوں پہ سفر کا ساماں
کیا خوب تلازمے ہیں
نکلا تلاش ِ ذات کا ساحل بھی نامراد
دریا کے اُس طرف بھی کنارہ سفر کا تھا
مزہ آ گیا
رستہ کٹا تو ساتھی یہ کہہ کر الگ ہوئے
منزل بخیر ! ساتھ ہمارا سفر کا تھا
حسبِ حال
لوٹا تو پھرملی مجھے تحفے میں اک کتاب
دیکھا تو ایک تازہ شمارہ سفر کا تھا
زبردست
سپرب
فاتح — مارچ 2، 2016 7:30 شام
بستی میں ہم ٹھہر کے تو بے آسرا ہوئے
خانہ بدوش تھے تو سہارا سفر کا تھا
ہائے ہائے ہائے
کیا المیہ ہے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:57 صبح
بہت بہت شکریہ تابش بھائی !
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:59 صبح
بہت بہت شکریہ اوشو بھائی ! توجہ کیلئے بہت ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 1:00 صبح
بہت شکریہ بھئی بلال! تھینک یو !

اللہ آپ کو ہمیشہ شادآباد رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 1:03 صبح
بستی میں ہم ٹھہر کے تو بے آسرا ہوئے
خانہ بدوش تھے تو سہارا سفر کا تھا
ہائے ہائے ہائے
کیا المیہ ہے
ذرہ نوازی ہے فاتح بھائی ! اس محبت کے لئے بہت شکر گزار ہوں ۔ سلامت رہیں!
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:03 صبح
جب تک امید ِ منزل ِ جاناں تھی ہمقدم
دل کو ہر اک فریب گوارا سفر کا تھا
اعلیٰ۔۔۔۔
نکلا تلاش ِ ذات کا ساحل بھی نامراد
دریا کے اُس طرف بھی کنارہ سفر کا تھا
کیا کہنے۔۔۔
بستی میں ہم ٹھہر کے تو بے آسرا ہوئے
خانہ بدوش تھے تو سہارا سفر کا تھا
واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ دلفریب۔۔۔ بہت خوب۔۔۔۔
سید اسد معروف — مارچ 4، 2016 8:36 صبح
ہر شعر بہترین ہے۔ آپ ایک بار پھر چھا گئے ہیں ظہیر بھائی۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 6، 2016 6:02 صبح
واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ دلفریب۔۔۔ بہت خوب۔۔۔۔
محبت ہے آپ کی بھائی !! حسنِ نظر ہے آپ کا ! اللہ سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 6، 2016 6:03 صبح
ہر شعر بہترین ہے۔ آپ ایک بار پھر چھا گئے ہیں ظہیر بھائی۔
اسد بھائی ، بہت نوازش! آپ کا حسنِ ذوق ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ شاد آباد رہیئے ۔