ہم ترے قرب میں جینا چاہیں

ثامر شعور — ستمبر 21، 2014 3:54 صبح
خوف یوں دل میں اترتے جائیں
خواب جینے کے بھی مرتے جائیں
ہم ترے قرب میں جینا چاہیں
اور لمحے کہ گزرتے جائیں
گر ترے ہاتھ سمیٹیں ، ہم بھی
بات بے بات بکھرتے جائیں
خاک اڑنے لگی ہے آنکھوں سے
ہو کوئی خواب کہ دھرتے جائیں
ہو ترا ہاتھ اگر ہاتھوں میں
تو یہ لمحے بھی ٹھہرتے جائیں
کچھ تو آساں ہوں سفر کے رستے
ہم کوئی بات ہی کرتے جائیں
ہو ترا ساتھ میسر ہم کو
تو شب و روز سنورتے جائیں
کتنی چپ پھیل گئی ہے ثامر
اپنی آواز سے ڈرتے جائیں​
عظیم — ستمبر 21، 2014 11:31 شام
خوف واحد ہے بهائی -
الف عین — ستمبر 22، 2014 3:00 صبح
خوب غزل ہے۔
@عظیم۔ خوف کی جمع کیا ہے، اخواف؟؟؟؟
جمع بھی استعمال کیا جا سکتا ہے خوف
ابن رضا — ستمبر 22، 2014 4:22 صبح
بہت خوب
عظیم — ستمبر 22، 2014 7:59 صبح
خوب غزل ہے۔
@عظیم۔ خوف کی جمع کیا ہے، اخواف؟؟؟؟
جمع بھی استعمال کیا جا سکتا ہے خوف

خوفین بابا :ROFLMAO:
محمد بلال اعظم — ستمبر 23، 2014 4:56 شام
ہم ترے قرب میں جینا چاہیں
اور لمحے کہ گزرتے جائیں
واہ
کیا خوب کہا ہے
بہت اعلیٰ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D9%82%D8%B1%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%DB%8C%D9%86%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA.77696/