ہم خاک نشینوں کو نئی خاک ملی ہے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 27، 2015 6:26 صبح
ہم خاک نشینوں کو نئی خاک ملی ہے
جو چھوڑ کر آئے وہی املاک ملی ہے
ہم سادہ روش لوگ بدلتے نہیں چولے
میلی ہی نہیں ہوتی وہ پوشاک ملی ہے
پہنے ہوئے پھرتے ہیں تہِ جبہ و دستار
در سے جو ترے خلعتِ صد چاک ملی ہے
رکھی ہے بصارت کی طرح دیدہِ تر میں
قسمت سےہمیں نعمتِ نمناک ملی ہے
سونے کے بدل بکتی ہے بازار میں خوشبو
پھولوں کو مگر قیمتِ خاشاک ملی ہے
رکھتے ہیں امانت کی طرح نقدیِ جاں کو
وہ لوگ جنہیں دولتِ ادراک ملی ہے
دیتے ہوئے ڈرتا ہوں اُسے جامہء الفاظ
خامے کو طبیعت مرے بے باک ملی ہے
دریا کے کنارے بھی کہیں ملتے ہیں لوگو؟
دھرتی سے کہیں سرحدِ افلاک ملی ہے؟
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔مئی ۲۰۱۳
ٹیگ: فاتح سید عاطف علی محمد تابش صدیقی الف عین
حمیرا عدنان — دسمبر 27، 2015 6:36 صبح
م سادہ روش لوگ بدلتے نہیں چولے
میلی ہی نہیں ہوتی وہ پوشاک ملی ہے
واہہہہہہ بھائی کمال ہوگیا یہ تو بہت بہت بہت خوب مزا آگیا یہ شعر پڑھ کر
سونے کے بدل بیچی گئی بازار میں خوشبو
پھولوں کو مگر قیمتِ خاشاک ملی ہے
بھائی بہت عمدہ :applause: خوش رہیں آباد رہیں
محمد تابش صدیقی — دسمبر 27، 2015 7:01 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی
ہم سادہ روش لوگ بدلتے نہیں چولے
میلی ہی نہیں ہوتی وہ پوشاک ملی ہے

رکھی ہے بصارت کی طرح دیدہِ تر میں
قسمت سےہمیں نعمتِ نمناک ملی ہے
فاتح — دسمبر 27، 2015 10:05 صبح
واہ کیا خوب اشعار ہیں۔
سید عاطف علی — دسمبر 27، 2015 10:34 صبح
واہ ۔واہ ۔ بہت خوب۔
بازار میں خوشبو ۔والا شعر کچھ دگرگوں ہے۔ذرا توجہ دیں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف مجھے محسوس ہوا ؟
الف عین — دسمبر 28، 2015 12:15 صبح
غزل تو خوب ہے۔ لیکن یہ مصرع وزن سے خارج ہے، شاید ٹائپو ہے
سونے کے بدل بیچی گئی بازار میں خوشبو
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 28، 2015 1:49 صبح
واہ ۔واہ ۔ بہت خوب۔
بازار میں خوشبو ۔والا شعر کچھ دگرگوں ہے۔ذرا توجہ دیں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف مجھے محسوس ہوا ؟

غزل تو خوب ہے۔ لیکن یہ مصرع وزن سے خارج ہے، شاید ٹائپو ہے
سونے کے بدل بیچی گئی بازار میں خوشبو

عاطف بھائی اور اعجاز بھائی ۔نشاندہی کا بہت بہت شکریہ ۔ ٹائپو درست کردیا ہے ۔دراصل اشعار کو ٹائپ کرنے کا کام میری توقع سے کچھ زیادہ نکلا ۔ اکثر غزلوں کے اشعار ایک سے زیادہ کاغذوں پر برآمد ہورہے ہیں کیونکہ وہ مختلف اوقات میں لکھے گئے تھے ۔ کافی کچھ کاٹ پیٹ بھی موجود ہے۔ ایک مصرع کئی کئی طرح سے مل رہا ہے۔ احتیاط کے باوجود نقل کرنے میں غلطی ہو ہی گئی ۔ ایک دفعہ پھر آپ کا بہت بہت ممنون ہوں ۔
سونے کے بدل بکتی ہے بازار میں خوشبو
پھولوں کو مگر قیمتِ خاشاک ملی ہے
محمداحمد — فروری 20، 2016 7:47 صبح
واہ واہ۔۔۔۔!
بہت خوب اشعار ہیں۔
بہت سی داد اور مبارکباد۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D9%85%D9%84%DB%8C-%DB%81%DB%92.86703/