ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی

La Alma — جولائی 8، 2019 10:18 صبح
ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی
اک بار جل اٹھی تو بجھائی نہ جائے گی
اے کاش روک لے کوئی صبحِ وصال کو
شامِ فراق ہم سے منائی نہ جائے گی
ہم آتشِ جفا میں سراپا سلگ چکے
اپنی ہی خاک آپ اڑائی نہ جائے گی
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
دل پر لگی لکیر مٹائی نہ جائے گی
یہ کیا کہ اہلِ درد کی آنکھیں بھی نم نہیں
اب داستانِ غم یہ سنائی نہ جائے گی
جس آہ کو ہو پاسِ ادب، ضبطِ گریہ کا
عرشِ بریں تلک وہ دہائی نہ جائے گی؟
سوچیں تو اس جہان میں مہرہ ہے آدمی
ایسی کہیں بساط بچھائی نہ جائے گی
ہم کو متاعِ عشق کے کھونے کا ڈر نہیں
اپنے کبھی یہ ہاتھ نہ آئی، نہ جائے گی
المٰی! حسیں ہیں یوں تو محبت کے دائرے
پھر گردشوں سے جان چھڑائی نہ جائے گی
عرفان سعید — جولائی 8، 2019 10:27 صبح
ماشاءاللہ، کیا ہی خوبصورت اشعار کہے ہیں!
ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی
اک بار جل اٹھی تو بجھائی نہ جائے گی

حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
دل پر لگی لکیر مٹائی نہ جائے گی
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 8، 2019 10:39 صبح
ماشاءاللہ،
کیا زبردست غزل پیش کی ،
سلامت رہیں ۔
سید عاطف علی — جولائی 8، 2019 11:42 صبح
واہ بہت خوب۔
اپنی ہی خاک آپ۔۔۔۔ واہ
La Alma — جولائی 8، 2019 1:46 شام
ماشاءاللہ، کیا ہی خوبصورت اشعار کہے ہیں!
پسندیدگی کے لئے شکر گزار ہوں۔
La Alma — جولائی 8، 2019 1:47 شام
ماشاءاللہ،
کیا زبردست غزل پیش کی ،
سلامت رہیں ۔
بہت شکریہ!
جزاک اللہ‎ !!
La Alma — جولائی 8، 2019 1:48 شام
واہ بہت خوب۔
اپنی ہی خاک آپ۔۔۔۔ واہ
مشکور ہوں !
فرقان احمد — جولائی 8، 2019 1:58 شام
ہم سے یہ شمعِ شوق جلائی نہ جائے گی
اک بار جل اٹھی تو بجھائی نہ جائے گی
اے کاش روک لے کوئی صبحِ وصال کو
شامِ فراق ہم سے منائی نہ جائے گی
ہم آتشِ جفا میں سراپا سلگ چکے
اپنی ہی خاک آپ اڑائی نہ جائے گی
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
دل پر لگی لکیر مٹائی نہ جائے گی
یہ کیا کہ اہلِ درد کی آنکھیں بھی نم نہیں
اب داستانِ غم یہ سنائی نہ جائے گی
جس آہ کو ہو پاسِ ادب، ضبطِ گریہ کا
عرشِ بریں تلک وہ دہائی نہ جائے گی؟
سوچیں تو اس جہان میں مہرہ ہے آدمی
ایسی کہیں بساط بچھائی نہ جائے گی
ہم کو متاعِ عشق کے کھونے کا ڈر نہیں
اپنے کبھی یہ ہاتھ نہ آئی، نہ جائے گی
المٰی! حسیں ہیں یوں تو محبت کے دائرے
پھر گردشوں سے جان چھڑائی نہ جائے گی
داد کیونکر دی جائے! :) ایک مدت بعد تہذیبی رچاؤ کی حامل غزل پڑھنے کو ملی۔ بے پناہ داد، اور ہاں، ایک بات اور، ذرا شعری لہجہ تو دیکھیے؛ انتہائی خوب صورت! کمال است! :)
احمد محمد — جولائی 8، 2019 2:04 شام
واہ۔ نہایت عمدہ
فاخر رضا — جولائی 8، 2019 3:08 شام
جس آہ کو ہو پاسِ ادب، ضبطِ گریہ کا
عرشِ بریں تلک وہ دہائی نہ جائے گی؟
یہاں تو ادب کی حد کردی آپ نے
بہت خوب
یہ شعر بہت پسند آیا. سارے اشعار ہی اچھے ہیں
La Alma — جولائی 8، 2019 5:28 شام
داد کیونکر دی جائے! :) ایک مدت بعد تہذیبی رچاؤ کی حامل غزل پڑھنے کو ملی۔ بے پناہ داد، اور ہاں، ایک بات اور، ذرا شعری لہجہ تو دیکھیے؛ انتہائی خوب صورت! کمال است! :)
یہ اردو محفل کا ہی خاصہ ہے، جہاں اس قدر ہمت افزائی کرنے والے صاحبِ ذوق احباب موجود ہیں۔ وگرنہ مجھے تو ہر بار یہیں گمان گزرتا ہے کہ میری ایسی طبع آزمائیوں پہ بھلا کون دھیان دے گا۔ پزیرائی کے لئے از حد شکریہ!!
La Alma — جولائی 8، 2019 5:28 شام
بہت نوازش۔
La Alma — جولائی 8، 2019 5:30 شام
یہاں تو ادب کی حد کردی آپ نے
بہت خوب
یہ شعر بہت پسند آیا. سارے اشعار ہی اچھے ہیں
آپ کا ذوقِ سخن ہے۔
بہت مشکور ہوں۔
محمد ریحان قریشی — جولائی 11، 2019 2:17 شام
سوچیں تو اس جہان میں مہرہ ہے آدمی
ایسی کہیں بساط بچھائی نہ جائے گی
ہم کو متاعِ عشق کے کھونے کا ڈر نہیں
اپنے کبھی یہ ہاتھ نہ آئی، نہ جائے گی
لاجواب۔
La Alma — جولائی 11، 2019 4:45 شام
بہت شکریہ!
لاریب مرزا — جولائی 11، 2019 5:05 شام
کیا خوب غزل ہے!! لاجواب!! بہت سی داد آپ کے لیے!! :)
La Alma — جولائی 11، 2019 9:09 شام
کیا خوب غزل ہے!! لاجواب!! بہت سی داد آپ کے لیے!! :)
بہت شکریہ لاریب ! ان توصیفی کلمات کے زیرِ بار ہوں۔ خوش رہیے۔ :)
الف عین — جولائی 12، 2019 3:56 صبح
واہ، بہت خوب
یہ مصرعہ بحر سے خارج ہو کر بد نما داغ لگا رہا ہے
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
سمجھیے کی جگہ جانیے کر دیں تو خوبصورت ہو جائے گا
La Alma — جولائی 12، 2019 7:37 صبح
واہ، بہت خوب
یہ مصرعہ بحر سے خارج ہو کر بد نما داغ لگا رہا ہے
حرفِ غلط کی طرح ستم کو نہ سمجھیے
سمجھیے کی جگہ جانیے کر دیں تو خوبصورت ہو جائے گا
سپاس گزار ہوں سر!
میں نے سمجھیے کو فاعلن کے وزن پر برتا ہے۔ جانیے ہی کر دیتی ہوں۔
صفی حیدر — جولائی 12، 2019 9:00 صبح
ہم آتشِ جفا میں سراپا سلگ چکے
اپنی ہی خاک آپ اڑائی نہ جائے گی
اس شعر کو پڑھ کر ایک بات ذہن میں آئی ہے ..... "آتش " میں" سلگنے" کے بعد "خاک " نہیں بنتی " راکھ " بنتی ہے ..... دوسرے مصرعے میں اگر " خاک " کے بجائے " راکھ " کر دیا جائے ؟؟؟؟ ہو سکتا ہے یہ نقظہ غلط ہو لیکن ذہن میں آیا تو اظہار کر دیا ....... لیکن یہ نہیں پتہ کی " راکھ اڑانا " محاورہ کے مطابق ٹھیک ہے یا نہیں ؟؟؟؟ "خاک اڑانا " تو محاورہ ہے لیکن جل کر تو راکھ ہوا جاتا ہے ......
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D8%B3%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B4%D9%85%D8%B9%D9%90-%D8%B4%D9%88%D9%82-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D9%86%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%DB%8C.107547/