ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے

محمد شکیل خورشید — مارچ 18، 2021 8:19 صبح
پل تری یاد کے بہانے کے
ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے ، زمانے کے
اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں
بھید سارے جو تھے چھپانے کے
کیسے اس کے بغیر کہہ ڈالوں
تھے جو قصے اسے سنانے کے
زندگی اب نہ مجھ کو بھائیں ذرا
تیرے انداز دل لبھانے کے
ہم نے سینچے ہیں پھول جیسے شکیل
زخم وہ غم کے تازیانے کے
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
امین شارق — مارچ 18، 2021 9:36 صبح
پل تری یاد کے بہانے کے
ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے ، زمانے کے
اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں
بھید سارے جو تھے چھپانے کے
کیسے اس کے بغیر کہہ ڈالوں
تھے جو قصے اسے سنانے کے
زندگی اب نہ مجھ کو بھائیں ذرا
تیرے انداز دل لبھانے کے
ہم نے سینچے ہیں پھول جیسے شکیل
زخم وہ غم کے تازیانے کے
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
واہ خوب
ہم انہیں بار بار پڑھتے رہے
شعر اچھے ہیں اس فسانے کے
سیما علی — مارچ 19، 2021 1:49 صبح
ہم نے سینچے ہیں پھول جیسے شکیل
زخم وہ غم کے تازیانے کے
بہت اعلیٰ!!!!
الف عین — مارچ 19، 2021 3:21 صبح
واہ سادہ الفاظ میں پر اثر غزل
سیما علی — مارچ 19، 2021 3:49 صبح
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے ، زمانے کے
کمال بہت خوب!!!!!!!
سیما علی — مارچ 19، 2021 3:57 صبح
جناب ہر شعر کمال!!!!!!!!!
ام عبدالوھاب — مارچ 19، 2021 4:08 صبح
واہ واہ،،،،،، بھیا بہت بڑھیا غزل ہے۔آسان بھی خوبصورت بھی
محمد شکیل خورشید — مارچ 19، 2021 5:22 صبح
واہ سادہ الفاظ میں پر اثر غزل
استاد کی تعریف حوصلہ بڑھا دیتی ہے، سر۔ جزاک اللہ
محمد شکیل خورشید — مارچ 19، 2021 5:23 صبح
واہ واہ،،،،،، بھیا بہت بڑھیا غزل ہے۔آسان بھی خوبصورت بھی
حوصلہ افزائی کا شکریہ محترمہ
محمد شکیل خورشید — مارچ 19، 2021 5:26 صبح
جناب ہر شعر کمال!!!!!!!!!
بہت بہت شکریہ، اتنی ساری تعریفوں کا، حوصلہ بڑھتا ہے جب احباب ہمت بندھائیں
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 19، 2021 5:31 صبح
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے ، زمانے کے
بے حد عمدہ شعر
بہت شاندار غزل ۔
محمد شکیل خورشید — مارچ 19، 2021 5:38 صبح
بے حد عمدہ شعر
بہت شاندار غزل ۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ جناب
عرفان علوی — مارچ 20، 2021 2:16 صبح
پل تری یاد کے بہانے کے
ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے
توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن
ضبط کے، صبر کے ، زمانے کے
اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں
بھید سارے جو تھے چھپانے کے
کیسے اس کے بغیر کہہ ڈالوں
تھے جو قصے اسے سنانے کے
زندگی اب نہ مجھ کو بھائیں ذرا
تیرے انداز دل لبھانے کے
ہم نے سینچے ہیں پھول جیسے شکیل
زخم وہ غم کے تازیانے کے
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ اور احباب کی نذر
شکیل صاحب ، صاف سُتھری اور دِل پذیر غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
نیازمند،
عرفان عؔابد
ظہیراحمدظہیر — مارچ 22، 2021 7:18 شام
بہت خوب! اچھی غزل ہے شکیل بھائی !
سید عاطف علی — مارچ 22، 2021 10:25 شام
زندگی اب نہ مجھ کو بھائیں ذرا
تیرے انداز دل لبھانے کے
واہ خوب ،

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85-%D9%86%DB%81-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%92%D8%8C-%D9%86%DB%81-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92.115549/