راحیل فاروق — اکتوبر 4، 2016 11:26 صبح
تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح
ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح
ایسی وحشت کا برا ہو کہ ہم اپنے گھر سے
گم ہوئے خود بھی محبت کی نشانی کی طرح
ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں؟
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح
پاس رکھیں تو ملال، آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کی طرح
عشق ہے مدرسۂِ زیست کی اکھڑی ہوئی اینٹ
ہمہ دانی کی طرح، ہیچ مدانی کی طرح
یہ غزل حضرتِ راحیلؔ کی ہے، دھیان رہے
آپ پوشیدہ ہیں لفظوں میں معانی کی طرح
راحیلؔ فاروق
۴ اکتوبر، ۲۰۱۶ء
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2016 11:48 صبح
واہ واہ راحیل بھائی۔ کیا کہنے
ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں؟
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح
لیکن آپ کہہ گئے کسی پردے کے بغیر
یہ غزل حضرتِ راحیلؔ کی ہے، دھیان رہے
آپ پوشیدہ ہیں لفظوں میں معانی کی طرح
میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں
بندہ نام پڑھے بغیر بھی غزل پڑھے تو پتہ چل جائے راحیل بھائی کی ہے۔
سید عاطف علی — اکتوبر 4، 2016 12:00 شام
بھئی واہ ۔ خوب طرح ڈالی ہے ۔راحیل ۔
بہت پسند آئی ۔
محمداحمد — اکتوبر 4، 2016 12:50 شام
خوبصورت غزل ہے راحیل بھائی!
بہت عمدہ اور بہت خوبی سے نبھائی گئی ردیف!
خاکسار کی جانب سے ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
الف عین — اکتوبر 4، 2016 4:19 شام
بہت سی داد۔ ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
آوازِ دوست — اکتوبر 4، 2016 5:32 شام
پاس رکھیں تو ملال، آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کیطرح
واہ!!!! بہت خوب
محمد وارث — اکتوبر 4، 2016 5:43 شام
لاجواب۔ کیا ہی اچھی غزل ہے قبلہ، بہت خوب۔
ابو ہاشم — اکتوبر 4، 2016 5:51 شام
ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں؟
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح
کیا یہ دونوں مصرعے ہم وزن ہیں؟
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2016 6:05 شام
کیا یہ دونوں مصرعے ہم وزن ہیں؟
جی
حمیرا عدنان — اکتوبر 4، 2016 6:14 شام
بہت خوب راحیل بھائی
صفی حیدر — اکتوبر 4، 2016 6:14 شام
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح
بے شک ۔۔۔۔۔ لاجواب، رواں دواں کلام ہے ۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔
راحیل فاروق — اکتوبر 5، 2016 10:02 صبح
واہ واہ راحیل بھائی۔ کیا کہنے
بہت شکریہ، تابش بھائی۔
میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں
میں بھی پہلے کہہ چکا ہوں، بھائی۔
بھئی واہ ۔ خوب طرح ڈالی ہے ۔راحیل ۔
بہت پسند آئی ۔
آپ کو پسند آنے کا مطلب ہے سند مل گئی!


خاکسار کی جانب سے ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
خاکسار کی داد قبول کی گئی۔ آپ کی کہاں ہے؟


بہت سی داد۔ ماشاء اللہ اچھی غزل ہے
آداب، استاذی!


پاس رکھیں تو ملال، آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کیطرح
واہ!!!! بہت خوب
آپ کی ڈی پی پر صادق آتا ہے یہ شعر۔ بہت شکریہ!


لاجواب۔ کیا ہی اچھی غزل ہے قبلہ، بہت خوب۔
عنایت، وارث بھائی۔
بہت شکریہ، چھوٹی آپا۔ اب تو آپ غالبؔ کی طرف دار ہو گئی ہیں۔ آپ سے داد وصولنے کا مزا آنے لگا ہے۔


بے شک ۔۔۔۔۔ لاجواب، رواں دواں کلام ہے ۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی محبت، صفی بھائی۔



سید لبید غزنوی — اکتوبر 5، 2016 10:08 صبح
خوبصورت غزل ہے راحیل بھائی!
بہت عمدہ اور بہت خوبی سے نبھائی گئی ردیف!
خاکسار کی جانب سے ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔
ٹرومین — اکتوبر 5، 2016 10:40 صبح
بہت خوب صورت غزل ہے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 5، 2016 10:46 صبح
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
کاغذ کی دوسری طرف سے باہر نہ نکل جائے۔
رومانہ چوہدری — اکتوبر 5، 2016 11:08 صبح
ردیف اچھی ہے۔ تین اشعار بہت پیارے ہیں باقی بھرتی ہے۔
ٹرومین — اکتوبر 5، 2016 11:08 صبح
کاغذ کی دوسری طرف سے باہر نہ نکل جائے۔
یعنی کاغذ کی دوسری طرف ایک اور شاہکار غزل وجود میں آئے گی؟

ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 5، 2016 11:13 صبح
لاجواب اور شاندار ۔۔ مزہ آ گیا

محمدابوعبداللہ — اکتوبر 5، 2016 12:10 شام
بہت خوب
پاس رکھیں تو نہال دور جو رکھیں تو ملال
بیوی بھی کاش کہ ہوتی جو فلانی کی طرح

ابو ہاشم — اکتوبر 5، 2016 3:05 شام
تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح
کیا چیز نئی ڈالی ہے پتا نہیں چلتا اس شعر سے
ویسے اچھی غزل کہی ہے