ہمارے غور کرنے کو ہَوا ہے

عظیم — مئی 2، 2018 11:42 صبح

ہمارے غور کرنے کو ہوا ہے
فضا ہے، روشنی ہے اور گھٹا ہے
میں کرتا بھی ہوں اُس کا شکر لیکن
مرے دل میں عجب اک خوف سا ہے
نہ چھوڑیں دین کا دامن کبھی ہم
اِسی میں اپنی اچھائی، بھلا ہے
نہیں جھکتی اگر گردن ہی آگے
خدا سے عشق کا دعویٰ بھی کیا ہے
بڑائی ہے سب اُس کے واسطے دوست
یہ مانا مَیں کہ تُو عالِم بڑا ہے
اگر دیکھیں تو کس شے میں نہیں وہ
ہماری ذات خود اُس کا پتا ہے
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا کہ باقی
ہماری آنکھ میں شرم و حیا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 2، 2018 6:16 شام
یہ مانا مَیں کہ تُو عالِم بڑا ہے​

"یہ مانا میں نے" کا محل ہے۔ اسے یوں کرسکتے ہیں
یہ مانا میں نے تو عالم بڑا ہے
فاخر رضا — مئی 2، 2018 7:00 شام
بہت زبردست حمد ہے۔ ماشااللہ۔ بہت اچھا لکھا ہے۔
خدا سے عشق کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
عظیم — مئی 2، 2018 7:09 شام
بہت زبردست حمد ہے۔ ماشااللہ۔ بہت اچھا لکھا ہے۔
خدا سے عشق کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
بہت شکریہ فاخر رضا بھائی ۔
الف عین — مئی 3، 2018 7:22 صبح
اچھی حمد ہے۔ خلیل کے مشورے کے علاوہ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس مصرع کو بھی بدل دو۔
اِسی میں اپنی اچھائی، بھلا ہے
جیسے
اسی میں خیر ہے، اپنا بھلا ہے
محمداحمد — مئی 7، 2018 7:06 صبح
بہت خوب!
ہمارے غور کرنے کو ہوا ہے
فضا ہے، روشنی ہے اور گھٹا ہے
اگر دیکھیں تو کس شے میں نہیں وہ
ہماری ذات خود اُس کا پتا ہے

بہت داد عظیم بھائی!
عظیم — مئی 7، 2018 7:40 صبح
بہت خوب!
بہت داد عظیم بھائی!
بہت شکریہ احمد بھائی ۔
شکیب — مئی 7، 2018 8:04 صبح
بہت عمدہ عظیم بھائی... لکھتے رہیے!
عظیم — مئی 7، 2018 6:03 شام
بہت عمدہ عظیم بھائی... لکھتے رہیے!
بہت شکریہ شکیب بھائی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%BA%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%D9%88-%DB%81%D9%8E%D9%88%D8%A7-%DB%81%DB%92.101145/