راحیل فاروق — فروری 7، 2017 1:14 شام
ہمہ تن گوش ہوں ہمہ تن گوش
دوست خاموش ہے بہت خاموش
کوئے جانانہ تھا کہ ویرانہ
تھا مجھے ہوش؟ کیوں نہ تھا مجھے ہوش؟
ہاں ظلوم و جہول ہوں یا رب
دوش کس کا ہے؟ بول کس کا ہے دوش؟
کون ہے؟ جی فقیر! ہائے نہیں
کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟
سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا
دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش
پھر کوئی درد ہے بلا کا درد
شعر میں جوش ہے غضب کا جوش
مند گئی آنکھ مند گئی راحیلؔ
کوئی آغوش ہے کوئی آغوش
راحیلؔ فاروق
۷ فروری ۲۰۱۷ء
صفی حیدر — فروری 7، 2017 1:19 شام
واہ بہت خوب ۔۔۔۔ عمدہ ، منفرد اور لاجواب کلام ہے ۔۔۔۔۔
الف عین — فروری 7، 2017 4:14 شام
نہیں میاں، آج مزا نہیں آیا۔ شاید اتنی اچھی غزلیں کہنے کے بعد یہ معمولی غزل لگی اس لیے۔
اس کی کیا تقطیع کر رہے ہو۔
کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟
محمد ریحان قریشی — فروری 7، 2017 4:21 شام
نہیں میاں، آج مزا نہیں آیا۔ شاید اتنی اچھی غزلیں کہنے کے بعد یہ معمولی غزل لگی اس لیے۔
اس کی کیا تقطیع کر رہے ہو۔
کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟
کیا خور و نو: فاعلاتن
ش کیا فقط : مفاعلن
خور و نوش: فعِلان
عاطف ملک — فروری 9، 2017 7:33 شام
پھر کوئی درد ہے بلا کا درد
شعر میں جوش ہے غضب کا جوش
بہت خوبصورت راحیل بھائی!
مجھے تو "شاعر ہے راحیل غضب کا۔۔۔۔۔۔" والا مزہ اس شعر میں آیا ہے۔
جاسمن — مارچ 21، 2017 10:33 صبح
بہت خوب!
کاشف اسرار احمد — مارچ 22، 2017 4:03 صبح
کلام کی انفرادیت نے جکڑ لیا راحیل بھائی ۔۔۔ واہ
سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا
دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش
واہ۔۔۔۔
مند گئی آنکھ مند گئی راحیلؔ
کوئی آغوش ہے کوئی آغوش
عمدہ۔۔۔۔۔۔
ڈھیروں داد۔۔
الف عین — مارچ 22، 2017 6:39 صبح
کیا خور و نو: فاعلاتن
ش کیا فقط : مفاعلن
خور و نوش: فعِلان
اوہو، میں اسے خورد و نوش پڑھ رہا تھا
امان زرگر — نومبر 1، 2017 4:13 شام
ارے واہ۔۔۔ منفرد، بزبانِ شاعر میسر ہو جاتی تو لطف دوبالا ہو جاتا۔۔۔ سر
راحیل فاروق