ہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدۂ محشر کھلے ۔۔۔ عمران شناور

عمران شناور — جنوری 22، 2011 7:41 صبح
آپ دوستوں کی نذر
طرحی غزل
ہو رہا ہے کیا یہاں کچھ عقدہء محشر کھلے
اب فصیلِ تیرگی میں روشنی کا در کھلے
بزمِ یاراں سج گئی ہے بس یہی ارمان ہے
کوئی تو ساحر ہو ایسا جس پہ وہ ازور کھلے
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
سوچتے تھے زندگی میں اب کوئی مشکل نہیں
ایک کا حل مل گیا تو مسئلے دیگر کھلے
تو مری شہ رگ کے اتنا پاس کیسے ہوگیا
’’سوچنے بیٹھا تجھے تو کیسے کیسے در کھلے‘‘
ڈوب کو بحرِ سخن میں مَیں شناور ہوگیا
ایک پل میں زندگی کے کتنے ہی جوہر کھلے
عمران شناور​
الف عین — جنوری 22، 2011 4:21 شام
واہ
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
ٹائپو ہو گئی ہے مقطع میں۔ درست کر لیں
ابو مصعب — جنوری 22، 2011 4:59 شام
بہت خوب
بہت عمدہ
لیکن آخری شعر میں
ڈرب کو بحرِ سخن میں جب شناور ہوگیا
ڈرب کا کیا مطلب ؟
اور
کوئی تو ساحر ہو ایسا جس پہ وہ ازور کھلے
اس مصرعے میں "ازور" کا کیا مطلب ہے؟
محمداحمد — جنوری 29، 2011 10:34 صبح
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
سوچتے تھے زندگی میں اب کوئی مشکل نہیں
ایک کا حل مل گیا تو مسئلے دیگر کھلے
تو مری شہ رگ کے اتنا پاس کیسے ہوگیا
’’سوچنے بیٹھا تجھے تو کیسے کیسے در کھلے‘‘

بہت خوب اچھی غزل ہے عمران بھائی۔
بہت سی داد حاضرِ خدمت ہے۔ قبول کیجے۔
عمران شناور — جنوری 31، 2011 12:25 شام
واہ
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
ٹائپو ہو گئی ہے مقطع میں۔ درست کر لیں

اعجاز صاحب بہت شکریہ کہ آپ نے غزل پسند فرمائی۔
غلطی درست کر دی ہے۔
عمران شناور — جنوری 31، 2011 12:30 شام
بہت خوب
بہت عمدہ
لیکن آخری شعر میں
ڈرب کو بحرِ سخن میں جب شناور ہوگیا
ڈرب کا کیا مطلب ؟
اور
کوئی تو ساحر ہو ایسا جس پہ وہ ازور کھلے
اس مصرعے میں "ازور" کا کیا مطلب ہے؟

ابو مصعب غزل پسند کرنے کے لیے بہت شکریہ۔
لفظ ڈرب غلط لکھا گیا تھا اصل میں ڈوب تھا
درست کر دیا ہے۔ دیکھ لیں
اور ازور کے معنی ہیں: لائق، سزاوار‘ مستحق
یہاں بمعنی لائق استعمال ہوا ہے۔
آپ میں سیکھنے کا مادہ بہت زیادہ ہے۔ اللہ پاک آپ کی توفیقات میں اضافہ کرے۔ آمین
عمران شناور — جنوری 31، 2011 12:33 شام

بہت خوب اچھی غزل ہے عمران بھائی۔
بہت سی داد حاضرِ خدمت ہے۔ قبول کیجے۔

محمد احمد بھائی آپ کی داد قبول ہوئی۔
آپ کا بے حد شکریہ۔
محمد وارث — فروری 1، 2011 5:18 صبح
خوبصورت غزل ہے عمران صاحب، بہت خوب
عمران شناور — فروری 7، 2011 7:20 صبح
خوبصورت غزل ہے عمران صاحب، بہت خوب

بہت شکریہ وارث صاحب۔ آپ کی محبت ہے
ایس فصیح ربانی — مارچ 3، 2011 5:14 شام
واہ صاحب!
بہت اچھی غزل ہے، داد قبول کیجیے۔
فرخ منظور — مارچ 4، 2011 10:47 صبح
بہت اچھی غزل ہے عمران صاحب!
ایم اے راجا — مارچ 9، 2011 11:26 صبح
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
سوچتے تھے زندگی میں اب کوئی مشکل نہیں
ایک کا حل مل گیا تو مسئلے دیگر کھلے
واہ واہ بہت خوب
عمران شناور — مارچ 14، 2011 11:59 صبح
واہ صاحب!
بہت اچھی غزل ہے، داد قبول کیجیے۔

بہت شکریہ فصیح ربانی صاحب
عمران شناور — مارچ 14، 2011 12:00 شام
بہت اچھی غزل ہے عمران صاحب!

سخنور صاحب بہت شکریہ
عمران شناور — مارچ 14، 2011 12:00 شام
’کتنا اچھا دور تھا‘ ہم نے بزرگوں سے سنا
چھوڑ کر جاتے تھے جب ہم اپنے اپنے گھر کھلے
سوچتے تھے زندگی میں اب کوئی مشکل نہیں
ایک کا حل مل گیا تو مسئلے دیگر کھلے
واہ واہ بہت خوب

راجہ صاحب بہت شکریہ
زھرا علوی — اپریل 1، 2011 10:59 صبح
خوبصورت غزل ہے۔۔!!
عمران شناور — جون 22، 2011 8:11 صبح

بہت شکریہ زہرا جی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%88-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%8C%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%B9%D9%82%D8%AF%DB%81%D9%94-%D9%85%D8%AD%D8%B4%D8%B1-%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.32829/