محمد ریحان قریشی — اپریل 30، 2016 6:29 صبح
عادتِ غم ہی تو مشکل کا ہے آساں ہونا
ہے جراحت کی دوا غرقِ نمک داں ہونا
ہو مبارک خس و خاشاکِ بیابانوں کو
آتشِ پا سے مری سروِ چراغاں ہونا
اپنی پلکوں سے چکیدہ ہو تو اچھا ہے مگر
اوجِ خوں ہے حدفِ دشنہء مژگاں ہونا
جنسِ آرام و فنا ہیچ ہے ، لیتے ورنہ
ہے گراں ہم پہ ان اجزا کا پریشاں ہونا
اٹھ گیا دہر سے سن کر قم عیسیٰ ، تھا فقط
میرا ممکن کسی اعجاز سے بے جاں ہونا
یاد تجھ کو ہے، صدا سن کے مرے مرنے کی
سازِ ہستی کا بھی انگشت بدنداں ہونا
باغبانی ہو بہ خونناب تو کیا مشکل ہے
ایک ریحان سے صحرا کا گلستاں ہونا
محمد ریحان قریشی — اپریل 30، 2016 12:14 شام
محمد ریحان قریشی — مئی 1، 2016 6:22 صبح
مضامیں بهی تهے . ڈهیروں لفظی مناسبتیں بهی مگر اشعار میں وہ تاثیر نہیں تهی شاید.
الف نظامی — مئی 16، 2016 10:21 صبح
خوب!
ظہیراحمدظہیر — مئی 20، 2016 11:51 شام
بہت خوب ریحان میاں !! کیا اچھی کاوش ہے !! بس کچھ باتوں کو دیکھ لیجئے ۔
ہو مبارک خس و خاشاکِ بیابانوں کو
یہ مصرع لسانی طور پر درست نہیں ۔ فارسی اضافت یہاں نہیں لگے گی ۔ خس و خاشاکِ بیاباں تو درست ہے لیکن خس و خاشاکِ بیابانوں درست نہیں ۔
اوجِ خوں ہے حدفِ دشنہء مژگاں ہونا
اس شعر میں حدف کو ہدف کرلیجئے ۔
جنسِ آرام و فنا ہیچ ہے ، لیتے ورنہ
ہے گراں ہم پہ ان اجزا کا پریشاں ہونا
یہ شعر مہمل ہے ۔
ا ٹھ گیا دہر سے سن کر قم عیسیٰ ، تھا فقط
میرا ممکن کسی اعجاز سے بے جاں ہونا
دہر سے اٹھنا اور بے جاں ہونا ایک ہی بات ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں سخت تعقید ہے ۔ نثری ترتیب تو یوں ہوگی : میرا بے جاں ہونا فقط کسی اعجاز سے ممکن تھا ۔
یاد تجھ کو ہے، صدا سن کے مرے مرنے کی
سازِ ہستی کا بھی انگشت بدنداں ہونا
مرنے کی صدا چہ معنی؟! مرنے کی خبر تو ہوسکتی ہے ۔ یاد تجھ کو ہے تو یہاں سراسر بھرتی کا ہے بلکہ شعر کا مطلب بھی خبط کر رہا ہے ۔
باغبانی ہو بہ خونناب تو کیا مشکل ہے
ایک ریحان سے صحرا کا گلستاں ہونا
مقطع اچھا ہے ۔ تخلص کا استعمال اچھا کیا ہے ۔
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 1:32 صبح
بہت خوب ریحان میاں !! کیا اچھی کاوش ہے !! بس کچھ باتوں کو دیکھ لیجئے ۔
ہو مبارک خس و خاشاکِ بیابانوں کو
یہ مصرع لسانی طور پر درست نہیں ۔ فارسی اضافت یہاں نہیں لگے گی ۔ خس و خاشاکِ بیاباں تو درست ہے لیکن خس و خاشاکِ بیابانوں درست نہیں ۔
اوجِ خوں ہے حدفِ دشنہء مژگاں ہونا
اس شعر میں حدف کو ہدف کرلیجئے ۔
جنسِ آرام و فنا ہیچ ہے ، لیتے ورنہ
ہے گراں ہم پہ ان اجزا کا پریشاں ہونا
یہ شعر مہمل ہے ۔
ا ٹھ گیا دہر سے سن کر قم عیسیٰ ، تھا فقط
میرا ممکن کسی اعجاز سے بے جاں ہونا
دہر سے اٹھنا اور بے جاں ہونا ایک ہی بات ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں سخت تعقید ہے ۔ نثری ترتیب تو یوں ہوگی : میرا بے جاں ہونا فقط کسی اعجاز سے ممکن تھا ۔
یاد تجھ کو ہے، صدا سن کے مرے مرنے کی
سازِ ہستی کا بھی انگشت بدنداں ہونا
مرنے کی صدا چہ معنی؟! مرنے کی خبر تو ہوسکتی ہے ۔ یاد تجھ کو ہے تو یہاں سراسر بھرتی کا ہے بلکہ شعر کا مطلب بھی خبط کر رہا ہے ۔
باغبانی ہو بہ خونناب تو کیا مشکل ہے
ایک ریحان سے صحرا کا گلستاں ہونا
مقطع اچھا ہے ۔ تخلص کا استعمال اچھا کیا ہے ۔
رہنمائی کے لئے بے حد شکریہ. آپ کی تجاویز پر ضرور غور کروں گا.
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 3:38 صبح
وہسے بیابان والا ایسے درست ہو جائے گا؟
ہو مبارک خس و خاشاک بیاباں ہا کو
عباد اللہ — مئی 21، 2016 4:05 صبح
واااہ بہت خوب غزل ہے ریحان
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 4:10 صبح
واااہ بہت خوب غزل ہے ریحان
حوصلہ افزائی کے لیے مشکور ہوں.
الف عین — مئی 21، 2016 7:21 صبح
مضامیں بهی تهے . ڈهیروں لفظی مناسبتیں بهی مگر اشعار میں وہ تاثیر نہیں تهی شاید.
اسی باعث غالب نے بھی خیال آرائی اور مشکل پسندی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
جنس آرام والا شعر مہمل تو نہیں، البتہ الفاظ کی نشست بدلنے کی ضرورت ہے۔البتہ آرام و وفا کیوں، دونوں میں کوئی تعلق نہیں، یا تو محض آرام کہہ لیتے (کہ لینے کا جواز ہو جاتا) یا وفا۔ مثلاً
ہم بھی لے لیتے اگر جنس وفا مل جاتی
اکمل زیدی — مئی 21، 2016 7:40 صبح

۔ ۔ نہیں بھئی ...کچھ بھی کہو میں نہیں مانتا .... کہ تم سولہ کے ہو . . .

تکرار کے لئے پیشگی معذرت . .. .

محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 7:42 صبح

۔ ۔ نہیں بھئی ...کچھ بھی کہو میں نہیں مانتا .... کہ تم سولہ کے ہو . . .

تکرار کے لئے پیشگی معذرت . .. .
یعنی میرے پاس اب اور کوئی چارہ نہیں
https://www.facebook.com/rehan.qureshi.9634
عباد اللہ — مئی 21، 2016 7:48 صبح

۔ ۔ نہیں بھئی ...کچھ بھی کہو میں نہیں مانتا .... کہ تم سولہ کے ہو . . .

تکرار کے لئے پیشگی معذرت . .. .
آپ کو غالباََ ایک سو سولہ کے لگے؟
محمد ریحان قریشی — مئی 21، 2016 9:37 صبح
اسی باعث غالب نے بھی خیال آرائی اور مشکل پسندی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
جنس آرام والا شعر مہمل تو نہیں، البتہ الفاظ کی نشست بدلنے کی ضرورت ہے۔البتہ آرام و وفا کیوں، دونوں میں کوئی تعلق نہیں، یا تو محض آرام کہہ لیتے (کہ لینے کا جواز ہو جاتا) یا وفا۔ مثلاً
ہم بھی لے لیتے اگر جنس وفا مل جاتی
دراصل جنسِ فنا کہا تھا۔ جس کا راستہ اجزائے پریشاں کا شیرازہ ہے۔ فنا کے بعد آرام ہی آرام ہے۔
خیال بندی پر ابھی تھوڑے بہت تجربے کر رہا ہوں۔ دیکھتے ہیں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں۔
ادب دوست — مئی 21، 2016 10:33 صبح
اچھی کوشش ہے
محمد ریحان قریشی ، جاری رکھیئے۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔
فرحان محمد خان — نومبر 22، 2017 5:20 شام
کمال بہت خوب اشعار واہ واہ