ہو نہیں پایا وہ جو ہونا تھا - ملک عدنان احمد

ملک عدنان احمد — اکتوبر 24، 2016 10:28 صبح
ہو نہیں پایا، وه جو ہونا تھا
اور ہوا وه، جسے نہ ہونا تھا
وه تعلق بھی اب نہیں باقی
جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا
سرو قامت جسے میں سمجھا تھا
اصل میں وه تو ایک بونا تھا
یوں ہی لکھا ہوا تھا قسمت میں
تم نے ہنسنا تھا میں نے رونا تھا
تو نے مہلت ہی دی نهیں ورنہ
خود کو تجھ میں ابھی سمونا تھا
چند لمحوں کی اس رفاقت کا
سال ہا سال بوجھ ڈھونا تھا
زندگی نام ہی اسی کا ہے
کچھ تو پانا تھا کچھ تو کھونا تھا
تو تو کمسن نہ تھا مگر پھر کیوں
میں ترے واسطے کھلونا تھا
چین پایا نہ مر کے بھی احمد
اب ہی آکر تو میں نے سونا تھا
(ملک عدنان احمد)
عثمان قادر — اکتوبر 24، 2016 10:41 صبح
وه تعلق بھی اب نہیں باقی
جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا

چند لمحوں کی اس رفاقت کا
سال ہا سال بوجھ ڈھونا تھا

تو تو کمسن نه تھا مگر پھر کیوں
میں ترے واسطے کھلونا تھا
چین پایا نہ مر کے بھی احمد
اب ہی آکر تو میں نے سونا تھا
بہت عمدہ جناب ۔۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیں ۔۔۔۔
باقی ماہرانہ رائے اساتذہ دے دیں گے
ملک عدنان احمد — اکتوبر 24، 2016 11:24 صبح
بہت عمدہ جناب ۔۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیں ۔۔۔۔
باقی ماہرانہ رائے اساتذہ دے دیں گے
بہت شکریہ عثمان بھیا آپکی محبت ، توجہ اور داد کے لیے۔۔ میں بھی اساتذہ کی رائے کا منتظر ہوں۔ تب تک آپ احباب کی رائے سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں ;)
الف عین — اکتوبر 24، 2016 9:06 شام
واہ غزل تو اچھی ہے، لیکن اصلاح سخن میں ہوتی تو یہ کہتا کہ مطلع میں قافیہ ندارد ہے۔
ملک عدنان احمد — اکتوبر 25، 2016 5:36 صبح
واہ غزل تو اچھی ہے، لیکن اصلاح سخن میں ہوتی تو یہ کہتا کہ مطلع میں قافیہ ندارد ہے۔
جناب آپ اصلاح وہاں بھی کر سکتے ہیں، یہاں بھی کر سکتے ہیں۔ کان کھینچ کر، کان پکڑوا کر۔۔
جہاں تک بات قافیے کی ہے تو عرض ہے کہ "ہونا، رونا، ڈھونا، سونا۔۔" یہی قوافی ہیں۔ کیا ہم دونوں مصرعوں میں ایک ہی قافیہ استعمال نہیں کرسکتے؟
الف عین — اکتوبر 25، 2016 6:58 شام
جہاں تک بات قافیے کی ہے تو عرض ہے کہ "ہونا، رونا، ڈھونا، سونا۔۔" یہی قوافی ہیں۔ کیا ہم دونوں مصرعوں میں ایک ہی قافیہ استعمال نہیں کرسکتے؟
قافیہ ردیف کا تعین مطلع سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں دونوں میں ایک ہی قافیہ استعمال کرنا غلط ہے۔
ملک عدنان احمد — اکتوبر 26، 2016 5:28 صبح
قافیہ ردیف کا تعین مطلع سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں دونوں میں ایک ہی قافیہ استعمال کرنا غلط ہے۔
بہت بہترجناب۔ میں کوشش کرتا ہوں اسے دوبارہ کہنے کی۔ باقی کی غزل پر آپکی رائے کا منتظر ہوں۔ :)
مریم افتخار — اکتوبر 26، 2016 7:41 صبح
بہت خوب !!!!!
وه تعلق بھی اب نہیں باقی
جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا
سرو قامت جسے میں سمجھا تھا
اصل میں وه تو ایک بونا تھا

چند لمحوں کی اس رفاقت کا
سال ہا سال بوجھ ڈھونا تھا
زندگی نام ہی اسی کا ہے
کچھ تو پانا تھا کچھ تو کھونا تھا
تو تو کمسن نہ تھا مگر پھر کیوں
میں ترے واسطے کھلونا تھا
چین پایا نہ مر کے بھی احمد
اب ہی آکر تو میں نے سونا تھا
ادب دوست — اکتوبر 26، 2016 7:52 صبح
ہو نہیں پایا، وه جو ہونا تھا
اور ہوا وه، جسے نہ ہونا تھا
وه تعلق بھی اب نہیں باقی
جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا
سرو قامت جسے میں سمجھا تھا
اصل میں وه تو ایک بونا تھا
یوں ہی لکھا ہوا تھا قسمت میں
تم نے ہنسنا تھا میں نے رونا تھا
تو نے مہلت ہی دی نهیں ورنہ
خود کو تجھ میں ابھی سمونا تھا
چند لمحوں کی اس رفاقت کا
سال ہا سال بوجھ ڈھونا تھا
زندگی نام ہی اسی کا ہے
کچھ تو پانا تھا کچھ تو کھونا تھا
تو تو کمسن نہ تھا مگر پھر کیوں
میں ترے واسطے کھلونا تھا
چین پایا نہ مر کے بھی احمد
اب ہی آکر تو میں نے سونا تھا
(ملک عدنان احمد)
پسندیدہ
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 26، 2016 7:53 صبح
وه تعلق بھی اب نہیں باقی
جو مرا اوڑھنا بچھونا تھا
بہت زبردست ۔۔۔ اللہ آپ کو سلامتی اور تندرستی دے ۔ آمین :)
ملک عدنان احمد — اکتوبر 26، 2016 12:32 شام
بہت زبردست ۔۔۔ اللہ آپ کو سلامتی اور تندرستی دے ۔ آمین :)
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔ سلامت رہیں۔ آپ احباب کی داد میرے لیے نئی توانائیوں کا باعث ہے۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D9%88%DB%81-%D8%AC%D9%88-%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%85%D9%84%DA%A9-%D8%B9%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.92694/