ہوا سب ہو گئے ہیں خواب میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ش زاد

ش زاد — اکتوبر 31، 2009 11:15 صبح
ہوا جو ہو گئے ہیں خواب سارے
اُنہیں میں باغ تھے شاداب سارے
جواں عزمِ مُسلسل اور یہ رستہ
سفر کو ہیں یہی اسباب سارے
مُجھے مصلوب کرنا چاہتے تھے
کہاں ہیں آج وہ احباب سارے
مری آنکھیں ذرا نم ہو گئی ہیں
نظارے ہو گئے غرقاب سارے
تری نظروں میں گر میں ہی زمیں ہوں
کہاں ہیں پھر بتا مہتاب سارے
محل کی تو فقط دیوار ڈوبی
گھروندے آئے زیرِآب سارے
مُجھے بخشی گئی دریا نوردی
زمانے ہو گئے گرداب سارے
سِتارِ زندگی کیسے بجاؤں
مرے تو کھوئے ہیں مِضراب سارے
سُنا ہے گُمبدِ خِضرا کے آگے
ہوئے ہیں سر نگوں محراب سارے
ش زاد
ش زاد — اکتوبر 31، 2009 11:20 صبح
اب اِس ردیف کے ساتھ بھی دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کون سی بہتر ہے
ہوا سب ہو گئے ہیں خواب میرے
اُنہیں میں باغ تھے شاداب میرے
جواں عزمِ مُسلسل اور یہ رستہ
سفر کو ہیں یہی اسباب میرے
مُجھے مصلوب کرنا چاہتے تھے
کہاں ہیں آج وہ احباب میرے
مری آنکھیں ذرا نم ہو گئی ہیں
نظارے ہو گئے غرقاب میرے
تری نظروں میں گر میں ہی زمیں ہوں
کہاں ہیں پھر بتا مہتاب میرے
محل کی تو فقط دیوار ڈوبی
گھروندے آئے زیرِآب میرے
مُجھے بخشی گئی دریا نوردی
زمانے ہو گئے گرداب میرے
سِتارِ زندگی کیسے بجاؤں
سبھی تو کھوئے ہیں مِضراب میرے
ش زاد
فاتح — اکتوبر 31، 2009 2:46 شام
سبحان اللہ! سبحان اللہ! اس خوبصورت غزل پر مبارک باد قبول کیجیے۔
فیصلے کا حق تو آپ ہی کا ہے لیکن مجھے دوسری ردیف زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے۔
الف عین — اکتوبر 31، 2009 5:27 شام
اچھی غزل ہے شہزاد۔۔ واقعی ردیف ’میرے‘ ہی بہتر ہے۔ اس میں ذاتی ’ٹچ‘ آ جاتا ہے اور احساس دو بالا ہو جاتا ہے۔
محمود احمد غزنوی — اکتوبر 31، 2009 5:31 شام
سنا ہے گنبدِ خضرا کے آگے
ہوئے ہیں سرنگوں محراب سارے
اس شعر کی قربانی نہ کیجئے گا ذاتی ٹچ کے چکّر میں
ش زاد — نومبر 1، 2009 8:50 صبح
سبحان اللہ! سبحان اللہ! اس خوبصورت غزل پر مبارک باد قبول کیجیے۔
فیصلے کا حق تو آپ ہی کا ہے لیکن مجھے دوسری ردیف زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے۔
بہت شکریہ فاتح بھائی
ش زاد — نومبر 1، 2009 8:55 صبح
اچھی غزل ہے شہزاد۔۔ واقعی ردیف ’میرے‘ ہی بہتر ہے۔ اس میں ذاتی ’ٹچ‘ آ جاتا ہے اور احساس دو بالا ہو جاتا ہے۔
نوازش اعلٰی حضرت آپ احباب کی رائے میرے لئے قابلِ صد احترام ہے سو میں نے ردیف ’میرے‘ والی غزل کو اپنی بیاض میں شامِل کیا
ش زاد — نومبر 1، 2009 9:04 صبح
سنا ہے گنبدِ خضرا کے آگے
ہوئے ہیں سرنگوں محراب سارے
اس شعر کی قربانی نہ کیجئے گا ذاتی ٹچ کے چکّر میں
ضروری نہیں کہ ہر شعر ہی غزل کا حصہ بنے کچھ اشعار غزل کے بِنا بھی اپنی انفرادییت قائم رکھتے ہیں اور ویسے بھی یہ نعتیہ شعر غزل کے موڈ کا نہیں ہے اگر کوئی شعر فنی محاسن پر پورا اُترے تو اُس کے قربان کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
محمد وارث — نومبر 2، 2009 4:46 صبح
دوسری غزل واقعی ردیف بدلنے سے بہتر ہو گئی ہے، لاجواب!
عمران شناور — نومبر 2، 2009 5:18 صبح
بہت ہی اعلٰی ش زاد صاحب۔ بہت شکریہ۔ واہ
چونکہ میں نے 'میرے' ردیف کے ساتھ غزل کہی تھی شاید اس لیے مجھے بھی آپ کی دوسری غزل زیادہ پسند آئی۔ بہت اچھی غزل ہے۔ ماشاء اللہ
ش زاد — نومبر 4، 2009 11:45 صبح
دوسری غزل واقعی ردیف بدلنے سے بہتر ہو گئی ہے، لاجواب!
نوازش وارث بھائی
ش زاد — نومبر 4، 2009 11:46 صبح
بہت ہی اعلٰی ش زاد صاحب۔ بہت شکریہ۔ واہ
چونکہ میں نے 'میرے' ردیف کے ساتھ غزل کہی تھی شاید اس لیے مجھے بھی آپ کی دوسری غزل زیادہ پسند آئی۔ بہت اچھی غزل ہے۔ ماشاء اللہ
بہت بہت شکریہ عمران صاحب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%81%D9%88%D8%A7-%D8%B3%D8%A8-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%B4-%D8%B2%D8%A7%D8%AF.26304/