ظہیراحمدظہیر — مارچ 2، 2016 4:10 شام
ہوائے مہر ومحبت سوادِ جاں سے چلے
فصیلِ درد گرائے جہاں جہاں سے چلے
ہوا ہے شہر میں دستورِ مصلحت کا نفاذ
کوئی تو رسمِ جنوں بزمِ عاشقاں سے چلے
وصال و ہجر کے موسم گزرچکے ہیں سبھی
سو آج ہم بھی تری بزمِ امتحاں سے چلے
وہ مرحلے تری جانب جو طے کئے تھے کبھی
بُھلا کے ہم تری خاطر لو درمیاں سے چلے
فرازِ دار ، نشیبِ چمن ، حصارِ جنوں
یہ سلسلے تری جانب کہاں کہاں سے چلے
ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپریل ۱۹۹۹
محمد تابش صدیقی — مارچ 2، 2016 4:18 شام
بہت خوب ظہیر بھائی۔
ہوا ہے شہر میں دستورِ مصلحت کا نفاذ
کوئی تو رسمِ جنوں بزمِ عاشقاں سے چلے
سارہ خان — مارچ 2، 2016 4:30 شام
بہت عمدہ ۔۔۔
کاشف اختر — مارچ 2، 2016 4:43 شام
بہت خوب ۔ ظہیر صاحب ! ماشاءاللہ ! ہر شعر عمدہ ہے
فاتح — مارچ 2، 2016 5:36 شام
سبحان اللہ۔ خوبصورت اشعار نکالے۔ آخری شعر نے تو سماں باندھ دیا
فرازِ دار ، نشیبِ چمن ، حصارِ جنوں
یہ سلسلے تری جانب کہاں کہاں سے چلے
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:29 صبح
بھائی بہت بہت شکریہ ۔ سلامت رہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:29 صبح
بہت شکریہ سارہ بہن ۔ ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:30 صبح
بہت خوب ۔ ظہیر صاحب ! ماشاءاللہ ! ہر شعر عمدہ ہے
کاشف بھائی آپ کی محبت ہے ۔ اللہ خوش رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 3، 2016 12:32 صبح
سبحان اللہ۔ خوبصورت اشعار نکالے۔ آخری شعر نے تو سماں باندھ دیا
فرازِ دار ، نشیبِ چمن ، حصارِ جنوں
یہ سلسلے تری جانب کہاں کہاں سے چلے
فاتح بھائی ،آپ کا حسنِ نظر ہے ! سیروں خون بڑھ گیا ۔ آپ ہمیشہ شاد آباد رہیں !
نیرنگ خیال — مارچ 4، 2016 7:08 صبح
وصال و ہجر کے موسم گزرچکے ہیں سبھی
سو آج ہم بھی تری بزمِ امتحاں سے چلے
واہ۔۔۔ سر بہت سی داد قبول فرمائیں۔ اس قدر خوبصورت غزل۔۔۔
سید اسد معروف — مارچ 4، 2016 8:33 صبح
خوب ہے۔
سید عاطف علی — مارچ 4، 2016 9:56 صبح
واہ ۔بہت زبر دست ۔
محمد وارث — مارچ 5، 2016 3:18 صبح
کیا کہنے محترم اور آخری شعر تو بس قیامت ڈھا گیا، لاجواب۔
محمد بلال اعظم — مارچ 5، 2016 3:47 صبح
فرازِ دار ، نشیبِ چمن ، حصارِ جنوں
یہ سلسلے تری جانب کہاں کہاں سے چلے
'
واہ واہ واہ
بہت عمدہ محترم ظہیر صاحب
کیا انداز ہے۔ بہترین غزل لیکن یہ شعر تو بس کمال ہے۔
بہت سی داد