عاطف بٹ — فروری 11، 2015 8:11 شام
ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ
بھاتے نہیں دروازہ و دیوار وغیرہ
وحشت کا یہ عالم ہے کہ اب تو مجھے اکثر
لگتے ہیں برے اپنے ہی گھر بار وغیرہ
ہر بزم ترے نام سے موسوم رہی ہے
دیں گے یہ گواہی بھی مرے یار وغیرہ
میں دور کھڑا دیکھ رہا ہوں یہ تماشا
محفل میں تری بیٹھے ہیں اغیار وغیرہ
میں ماننے والا ہوں حسین ابنِ علی کا
خاطر میں کہاں لاتا ہوں دربار وغیرہ
پہچان مری ایک سی رہتی ہے ہمیشہ
گفتار وغیرہ ہو کہ کردار وغیرہ
یا رب! وہ چلے آتے ہیں شمشیر بکف کیوں
اچھے نہیں لگتے ہیں کچھ اطوار وغیرہ
ہر روپ میں وہ شوخ نرالا ہے جہاں سے
لگتی ہے مری جاں گل و گلزار وغیرہ
اس عشق کی بازی میں سبھی جان سے ہارے
فرہاد ہو یا عاطفِ بیمار وغیرہ
لئیق احمد — فروری 11، 2015 9:34 شام
"وغیرہ" لفظ کی بہت خوب قدر افزائی ہوئی اس غزل میں جس کی عام طور توقع نہیں ہوتی۔
بہت خوب عاطف بھائی

الف عین — فروری 12، 2015 2:30 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
اگرچہ اصلاح کے تحت تو نہیں ہے، لیکن ’ہوں کرتا‘ پر نا پسندیدیگی کا اظہار تو کر ہی دوں۔ اس کی جگہ ’رہی ہے‘ کر دیا جائے تو بھی مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔
تلمیذ — فروری 12، 2015 4:37 صبح
پہلی مرتبہ آپ کی غزل نظر سے گزری ہے اور تعریف کرنے پر دل کرتا ہے۔ ماشاء اللہ، عروض پر آپ کی خوب دسترس ہے۔ اپنے کلام سے مستفیدکرتے رہا کریں۔
براہ کرم ایک ٹائپو درست کر لیں: ’میں ماننے والا ہوں حسین ابنِ علی کے‘
’کے ‘کو’کا ‘کرلیں۔
عاطف بٹ — فروری 12، 2015 8:41 صبح
"وغیرہ" لفظ کی بہت خوب قدر افزائی ہوئی اس غزل میں جس کی عام طور توقع نہیں ہوتی۔
بہت خوب عاطف بھائی
بہت شکریہ لئیق بھائی

عاطف بٹ — فروری 12، 2015 8:41 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے۔
اگرچہ اصلاح کے تحت تو نہیں ہے، لیکن ’ہوں کرتا‘ پر نا پسندیدیگی کا اظہار تو کر ہی دوں۔ اس کی جگہ ’رہی ہے‘ کر دیا جائے تو بھی مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔
سر، بےحد شکریہ۔ ’رہی ہے‘ ہوگیا!

عاطف بٹ — فروری 12، 2015 8:42 صبح
پہلی مرتبہ آپ کی غزل نظر سے گزری ہے اور تعریف کرنے پر دل کرتا ہے۔ ماشاء اللہ، عروض پر آپ کی خوب دسترس ہے۔ اپنے کلام سے مستفیدکرتے رہا کریں۔
براہ کرم ایک ٹائپو درست کر لیں: ’میں ماننے والا ہوں حسین ابنِ علی کے‘
’کے ‘کو’کا ‘کرلیں۔
سر، بہت شکریہ۔ تدوین کردی ہے میں نے۔

محمد امین — فروری 12، 2015 8:43 صبح
واہ کیا بات ہے عاطف بھائی۔۔۔۔ عاطفِ بیمار اچھا لگا۔۔۔۔
عاطف بٹ — فروری 12، 2015 9:00 صبح
واہ کیا بات ہے عاطف بھائی۔۔۔۔ عاطفِ بیمار اچھا لگا۔۔۔۔
بہت شکریہ امین بھائی

فاتح — فروری 12، 2015 9:34 صبح
ہم سے بھی تعریف کے کلمات سننا چاہیں گے؟ فون اٹینڈ کریں تو سن لیں

الف نظامی — فروری 12، 2015 9:51 صبح
میں ماننے والا ہوں حسین ابنِ علی کا
خاطر میں کہاں لاتا ہوں دربار وغیرہ
عاطف بٹ — فروری 12، 2015 9:52 صبح
ہم سے بھی تعریف کے کلمات سننا چاہیں گے؟ فون اٹینڈ کریں تو سن لیں
آپ سے اسلام آباد آ کر کھری کھری ہی سنیں گے!

مقدس — فروری 12، 2015 10:05 صبح
عاطف بهیا آپ بهی گے کام سے

عباس اعوان — فروری 12، 2015 10:38 صبح
بہت خوب
بہت عمدہ غزل
بہت بہت شکریہ

ch farhan hussain — فروری 12، 2015 10:44 صبح
چھا گے جناب
ch farhan hussain — فروری 12، 2015 10:47 صبح
عاطف بهیا آپ بهی گے کام سے
سچ کہا آپی
عاطف بٹ — فروری 12، 2015 12:40 شام
عاطف بهیا آپ بهی گے کام سے
ہم پہلے کون سا کسی کام کے تھے!

عاطف بٹ — فروری 12، 2015 12:40 شام
بہت خوب
بہت عمدہ غزل
بہت بہت شکریہ
بہت شکریہ عباس صاحب
عاطف بٹ — فروری 12، 2015 12:41 شام
مقدس — فروری 12، 2015 12:47 شام
ہم پہلے کون سا کسی کام کے تھے!
مجهے پہلے ہی شک تها آپ کے نکمے پن کا بهیا
