یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے

راحیل فاروق — اکتوبر 28، 2016 2:08 صبح
یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
اس تردد میں تکلف نظر آتا ہے مجھے
آپ کہتے ہیں کہ میں صبر نہیں کر سکتا
دل تو کچھ اور ہی افسانہ سناتا ہے مجھے
پیرِ گردوں کی عنایت ہے کہ دن اچھے ہیں
تلملاتا ہے تو تارے بھی دکھاتا ہے مجھے
بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے
ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے
سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے
تجھ سے بڑھ کر تو یہ دربان ستمگر نکلا
ہائے ظالم تری چوکھٹ سے اٹھاتا ہے مجھے
جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟​

استقامت اسے چھو کر نہیں گزری راحیلؔ
کبھی عاشق، کبھی دیوانہ بتاتا ہے مجھے
راحیلؔ فاروق
۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء
عظیم — اکتوبر 28، 2016 3:58 صبح
بہت اچھی غزل ہے راحیلؔ فاروق بھائی، ماشاء اللہ
لاریب مرزا — اکتوبر 28، 2016 11:25 صبح
واہ!! کیا بات ہے!! تمام اشعار لاجواب ہیں
ہماری طرف سے بہت سی داد
فاخر رضا — اکتوبر 28، 2016 12:22 شام
یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
اس تردد میں تکلف نظر آتا ہے مجھے
آپ کہتے ہیں کہ میں صبر نہیں کر سکتا
دل تو کچھ اور ہی افسانہ سناتا ہے مجھے
پیرِ گردوں کی عنایت ہے کہ دن اچھے ہیں
تلملاتا ہے تو تارے بھی دکھاتا ہے مجھے
بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے
ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے
سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے
تجھ سے بڑھ کر تو یہ دربان ستمگر نکلا
ہائے ظالم تری چوکھٹ سے اٹھاتا ہے مجھے
جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟​

استقامت اسے چھو کر نہیں گزری راحیلؔ
کبھی عاشق، کبھی دیوانہ بتاتا ہے مجھے
راحیلؔ فاروق
۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء
ایز آلویز بہت اچھی غزل .
راحیل فاروق — اکتوبر 28، 2016 6:31 شام
بہت اچھی غزل ہے راحیلؔ فاروق بھائی، ماشاء اللہ
شکریہ، عظیم بھائی۔ اپنی نگارشات پر آپ کا پہلا ردِ عمل بہت اچھا لگا۔ :):):)
واہ!! کیا بات ہے!! تمام اشعار لاجواب ہیں
ہماری طرف سے بہت سی داد
آداب، اچھی خاتون۔ جیتی رہیے! :):):)
ایز آلویز بہت اچھی غزل .
شکریہ، بھیا۔
محمد تابش صدیقی بھائی، انگلش ورژن۔ ;)
ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ آپ اور جاسمن آپا داد دے دے کے تھک گئے ہیں۔ اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا! :cry2::cry2::cry2:
ربیع م — اکتوبر 28، 2016 6:52 شام
ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ ماشاءاللہ!
وقار علی ذگر — اکتوبر 28، 2016 6:54 شام
ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے

کیا کہنے راحیل بھائی ہر بار کی طرح لاجواب
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 29، 2016 4:20 صبح
راحیل فاروق بھائی تبصرہ ادھار ہے.
ابھی 2 دن مصروفیت کے ہیں. فی الحال ریٹنگ سے کام چلائیں. یک لفظی داد کا مزا تو نہیں آتا نہ جی. :)
جاسمن — اکتوبر 29، 2016 4:57 صبح
بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے
بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری غزلوں میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے
جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟

ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے
عشقِ حقیقی ۔۔۔۔۔۔بہت خوب صورت۔۔۔۔
ایک ایک شعر خوب است(میری فارسی است ہی است است:D)
زبردست پہ ان گنت زبریں۔
ڈھیروں دعاؤں بھری داد
اور بہت ساری شاباش
جیتے رہیے اور ہمیں ایسی شاعری سے محظوظ کرتے رہیے۔
بعض اوقات ہم ریٹنگ دے کے جلدی سے چلے جاتے ہیں کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صرف رسید ہوتی ہے۔پھر کسی فرصت کے وقت الفاظ میں داد دیتے ہیں۔ لیکن راحیل غزل کے لیے اب وہی وہی الفاظ مجھے پھیکے سے لگنے لگے ہیں۔ تھوڑے لفظ دے دو چھوٹے بھائی!
ملک عدنان احمد — اکتوبر 29، 2016 7:26 صبح
بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے

سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے

جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟
خوب۔۔۔ہر یک بہتر از دِگر۔۔۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — اکتوبر 29، 2016 7:41 صبح
تجھ سے بڑھ کر تو یہ دربان ستمگر نکلا
ہائے ظالم تری چوکھٹ سے اٹھاتا ہے مجھے
واہ واہ واہ
زبردست ۔۔ ایک ایک شعر لاجواب ۔۔ ڈھیروں داد
محمداحمد — اکتوبر 29، 2016 1:19 شام
بہت خوب راحیل بھائی!
بہت لطف دیا اس غزل نے۔ :)
نوید ناظم — اکتوبر 30، 2016 9:29 صبح
جی بہت اعلیٰ ہے!!
الف عین — اکتوبر 30، 2016 5:29 شام
تازہ بہ تازہ اور بہترین غزل۔ مبارک ہو، بہت سی داد۔
فیضان قیصر — نومبر 27، 2016 7:19 صبح
واہ واہ ، شعر میں لطف کیا ہوتا ہے سمجھ آگیا ۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 27، 2016 9:06 صبح
اس خوبصورت غزل پر داد تو ادھار ہی رہ گئی.
پوری غزل ہی خوب ہے. ان اشعقر کا تو کیا ہی کہنا.
یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
اس تردد میں تکلف نظر آتا ہے مجھے

بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے

ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے

سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92%D8%8C-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92.92739/