یاد کرنے میں مجھے کل شب یہ دشواری رہی

نمرہ — مئی 24، 2018 9:25 شام
یاد کرنے میں مجھے کل شب یہ دشواری رہی
کیا تھی وہ صورت کہ عرصہ ذہن پر طاری رہی
شاید اب اس گل بدن کو دیکھ لے باد بہار
نامہ بر بننے سے اس سے قبل انکاری رہی
بارہا رکھے گئے دنیا کے بازاروں میں ہم
کچھ رہی تو ناشناسوں میں خریداری رہی
نام اس شیریں سخن نے یوں لیا اک مرتبہ
از سماعت تا بہ دل مدت ہی سرشاری رہی
ہجر کا تارا تو کب کا بجھ گیا دل کی طرح
ہاں مگر آنکھوں میں وہ راتوں کی بیداری رہی
کار دنیا میں بہت الجھے مگر دل کے لیے
روز و شب میں ایک بے معنی سی بے کاری رہی
قیس خود دشت جنوں کی خاک ہو کر رہ گیا
رسم اک صحرا نوردی کی مگر جاری رہی
دل کے ایوانوں میں پیہم ایسی خاموشی نہ تھی
ٹوٹتے خوابوں کی اک مدت عزاداری رہی​
ابن سعید — مئی 25، 2018 4:33 صبح
:) :) :)
شکیب — مئی 25، 2018 5:16 صبح
بہت اعلی...
فہد اشرف — مئی 25، 2018 1:54 شام
بہت خوب غزل!
ایک ایک شعر لاجواب :applause:
نمرہ — مئی 26، 2018 3:03 شام
:)
نمرہ — مئی 26، 2018 3:03 شام
شکریہ
نمرہ — مئی 26، 2018 3:03 شام
بہت خوب غزل!
ایک ایک شعر لاجواب :applause:
شکریہ فہد :)
الف عین — مئی 26، 2018 3:15 شام
خوب غزل ہے
نمرہ — مئی 26، 2018 3:44 شام
شکریہ استاد گرامی۔
عبید انصاری — مئی 26، 2018 4:05 شام
بہترین
عرفان سعید — مئی 26، 2018 8:34 شام
نام اس شیریں سخن نے یوں لیا اک مرتبہ
از سماعت تا بہ دل مدت ہی سرشاری رہی
بہت اعلی غزل، اور اس شعر کی کیا ہی بات ہے!
جان — مئی 26، 2018 8:43 شام
کار دنیا میں بہت الجھے مگر دل کے لیے
روز و شب میں ایک بے معنی سی بے کاری رہی​
ساری غزل ہی بہترین ہے لیکن یہ شعر اپنی کیفیت کے سبب بہت پسند آیا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DA%A9%D9%84-%D8%B4%D8%A8-%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%DB%81%DB%8C.101559/