یادوں کے اک چراغ کو روشن کیے ہوئے
وہ چن رہا ہے آس کے جگنو بجھے ہوئے اک بدنصیب کور نگاہی کے شہر میں
پھرتا ہے اب بھی دیدہِ بینا لیے ہوئے کیسے کہوں میں شعر؟ غزل ہو تو بھلا کیوں؟
مدت ہوئی وہ چاند سا چہرہ تکے ہوئے بچھڑا جو اپنی اصل سے،گھر کا نہ گھاٹ کا
جھونکا ہوا کا لے گیا پتے گرے ہوئے نکلے تری زباں سے مرے دل کو چیر کر
الفاظ تھے یا زہر میں خنجر بجھے ہوئے منت بھی بے ثمر تھی، دعائیں بھی بے اثر
مجھ کو نہ موت آئی نہ تم ہی مِرے ہوئے لائی چمن میں تازگی پھر سے بسنت رُت
عاطفؔ کے دل کے زخم بھی پھر سے ہرے ہوئے
(عاطفؔ ملک)
نوٹ: کافی عرصے سے ٹوٹے پھوٹے چند اشعار اس امید پر رکھے ہوئے تھے کہ شاید ایک دو اچھے شعر ہو جائیں۔لیکن مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔اس لیے سوچا کہ ایسے ہی شریک کر دیتا ہوں۔تمام احباب سے گزارش ہے کہ اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔ خصوصی توجہ کی درخواست: استادِ محترم ظہیراحمدظہیر محمد وارث محمد تابش صدیقی محمداحمد یاسر شاہ
یہاں الفاظ دل کو چیر کر نکلے یا نکل کے دل کو چیرا ؟
ویسے چیر کر کو چیرنے کیا جاسکتاہے ۔
الف عین — نومبر 4، 2019 7:40 صبح
ظہیر میاں کے مشوروں کے علاوہ
الفاظ تھے یا زہر میں خنجر بجھے ہوئے
'یا' نہیں، 'کہ' استعمال کرو بچھڑا جو اپنی اصل سے،گھر کا نہ گھاٹ کا
محاورہ بے ربط لگ رہا ہے، ربط کے لیے 'وہ ہوا' کی کمی ہے
ایک تجویز
بچھڑا جو اصل سے، رہا گھر کا نہ گھاٹ کا
عاطف بھائی اچھے اشعار ہیں ۔ تقریباً تمام باتیں شاہ صاحب نے اور اعجاز بھائی نے پہلے ہی کہہ دی ہیں ۔ مین اتنا اور اضافہ کروں گا کہ مطلع میں جگنو چننے کا اظہاریہ پسند نہیں آیا ۔ بہت عجیب سا لگ رہا ہے ۔ جگنو بھلا کیسے چنے جاسکتے ہیں ؟! اسے پھر دیکھ لیجئے۔
تقریباً تمام باتیں شاہ صاحب نے اور اعجاز بھائی نے پہلے ہی کہہ دی ہیں ۔ مین اتنا اور اضافہ کروں گا کہ مطلع میں جگنو چننے کا اظہاریہ پسند نہیں آیا ۔ بہت عجیب سا لگ رہا ہے ۔ جگنو بھلا کیسے چنے جاسکتے ہیں
جگنو چننا عجیب کیوں لگ رہا ہے بھلا؟
لوگ جگنو جمع کر کے ان سے لیمپ بھی تو بناتے ہیں۔ ویسے یہ استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔اگر ہو سکے تو وضاحت کر دیجیے گا اس حوالے سے۔
جگنو چننا عجیب کیوں لگ رہا ہے بھلا؟
لوگ جگنو جمع کر کے ان سے لیمپ بھی تو بناتے ہیں۔ ویسے یہ استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔اگر ہو سکے تو وضاحت کر دیجیے گا اس حوالے سے۔
اگرچہ چننے کی جگہ ڈھونڈنا بھی کیا جا سکتا ہے
کہیں پڑی ہوئی یا رکھی ہوئی چیزوں میں سے کچھ کو منتخب کرکے اٹھانے کو چننا کہتے ہیں ۔ جیسے سیپیاں چننا ، موتی چننا ، دانے چننا ، کنکر چننا ، پھول چننا وغیرہ۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ جگنو چننا کیسا ہے؟! آج آپ جگنو چن رہے ہیں تو کل کوئی تتلیاں بھی چننا شروع کردے گا ۔ اس کے بعد شاید چڑیاں چننے کا نمبر ہوگا ۔
کہیں پڑی ہوئی یا رکھی ہوئی چیزوں میں سے کچھ کو منتخب کرکے اٹھانے کو چننا کہتے ہیں ۔ جیسے سیپیاں چننا ، موتی چننا ، دانے چننا ، کنکر چننا ، پھول چننا وغیرہ۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ جگنو چننا کیسا ہے؟! آج آپ جگنو چن رہے ہیں تو کل کوئی تتلیاں بھی چننا شروع کردے گا ۔ اس کے بعد شاید چڑیاں چننے کا نمبر ہوگا ۔
جگنو خواہ کسی بھی چیز کا استعارہ ہوں ، ہیں تو جگنو ہی ۔ سو جگنو کے لئے جگنو پکڑنا ہی استعمال ہوگا ،جگنو چننا نہیں ۔ جگنو ڈھونڈنا بھی لسانی طور پر درست ہے ۔