زھرا علوی — مئی 31، 2008 12:58 شام
"یاد کے دائروں میں چلتا ہے
آج بھی دل کہاں سنبھلتا ہے
رات دن تو ہمارے بھی جاناں
خامشی سے گزر ہی جاتے ہیں
لوٹ آئیں زمانے گزرے ہوئے
آس یہ ہم کہاں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں وہ کچھ پل مگر
وہی کچھ پل
قریہ ۂ دل میں جو مکیں بن کر
ایک مدت ہوئی کہ ٹھہرے ہیں
شام کی خامشی میں اکثر ہی
بے صدا حرف گنگناتے ہیں
یاد کے دائرے بناتے ہیں
یاد کے دائرے بناتے ہیں
بھول بیٹھے ہیں ہم نقوش اپنے
ایک مدت سے خود کو دیکھا نہیں
"قیدِ زندانِ خود فراموشی
گرچہ ہم آج بھی نبھاتے ہیں"
ہاں وہ کچھ پل مگر
وہی کچھ پل
قریہءِدل میں جو مکیں بن کر
ایک مدت ہوئی کہ ٹھہرے ہیں
صحنِ دل کی اداسیوں میں کبھی
خشک پتوں سے پھیل جاتے ہیں
یاد کے دائرے بناتے ہیں
یاد کے دائرے بناتے ہیں
اور یہ دل
یہ بے نوا سا دل
رہِ منزل کے خارزاروں میں
آرزوؤں کی لو میں جلتا ہے
یاد کے دائروں میں چلتا ہے
فرخ منظور — مئی 31، 2008 2:03 شام
اچھی نظم ہے زہرا صاحبہ!
الف عین — مئی 31، 2008 5:51 شام
زہرا۔۔ بستیِ دل کی ترکیب غلط ہے۔ بستی ہندہ لفظ ہے۔۔ اس میں اضافت نہیں لگ سکتی
اس کو قریۂ دل کر دیں۔
باقی بہت خوب نظم ہے۔
محمد وارث — جون 2، 2008 4:35 صبح
واہ واہ واہ، بہت خوبصورت نظم ہے آپ کی، لا جواب، سبحان اللہ
یونس رضا — جون 2، 2008 6:28 صبح
بہت شاندار
زھرا علوی — جون 4، 2008 1:45 شام
زہرا۔۔ بستیِ دل کی ترکیب غلط ہے۔ بستی ہندہ لفظ ہے۔۔ اس میں اضافت نہیں لگ سکتی
اس کو قریۂ دل کر دیں۔
باقی بہت خوب نظم ہے۔
شکریہ عبید انکل۔۔۔۔
میں تبدیل کر دیتی ہوں۔۔۔لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی


زھرا علوی — جون 4، 2008 1:48 شام
واہ واہ واہ، بہت خوبصورت نظم ہے آپ کی، لا جواب، سبحان اللہ
بہت بہت شکریہ وارث صاحب


جیا راؤ — جون 4، 2008 3:27 شام
واہ
خوبصورت نظم ہے زھرا جی۔
الف عین — جون 4، 2008 6:27 شام
زہرا۔۔ سیدھی بات تھی۔ بستی ہندی کا لفظ ہے۔ دل کی بستی کہا جاتا تو ٹھیک تھا۔ لیکن بستیِ دل کی ترکیب اس وجہ سے غلط ہے کہ اضافت کا زیر محض فارسی الفاظ میں لگتا ہے۔ جیسے دردِ دل، اس کو ’دکھِ دل ‘ نہیں کہا جا سکتا۔
ایم اے راجا — جون 4، 2008 8:53 شام
بہت خوبصورت نظم ہے واہ واہ واہ،
"یاد کے دائروں میں چلتا ہے
آج بھی دل کہاں سنبھلتا ہے
رات دن تو ہمارے بھی جاناں
خامشی سے گزر ہی جاتے ہیں
لوٹ آئیں زمانے گزرے ہوئے
آس یہ ہم کہاں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کو چھو گئے ہیں یہ لفظ بہت خوب۔
زھرا علوی — جون 6، 2008 2:37 شام
زہرا۔۔ سیدھی بات تھی۔ بستی ہندی کا لفظ ہے۔ دل کی بستی کہا جاتا تو ٹھیک تھا۔ لیکن بستیِ دل کی ترکیب اس وجہ سے غلط ہے کہ اضافت کا زیر محض فارسی الفاظ میں لگتا ہے۔ جیسے دردِ دل، اس کو ’دکھِ دل ‘ نہیں کہا جا سکتا۔
اوہ " ہندی" میں اسے بندی سمجھ بیٹھی تبھی تو سمجھ نہیں آ رہا تھا مگر اب آ گیا۔۔۔۔




بہت بہت بہت شکریہ۔۔۔۔
الف عین — جون 6، 2008 6:02 شام
چلو۔ تو ایک بات اور سمجھا دوں
اضافت میں یا تو کسرِ اضافت ہوتی ہے یا ہمزۂ اضافت۔ دونوں نہیں ہوتیں۔ میں نے دو تین دن پہلے ہی ایک پوسٹ کر کے سمجھایا تھا کہ جہاں ’ہ‘ کیآواز ’الف‘ جیسی نکلتی ہے، وہاں ہمزۂ اضافت استعمال میں آتا ہے۔ جیسے یہی لفظ ہمز
الف عین — جون 6، 2008 6:05 شام
ارے۔۔۔۔۔ میں نے اتنا لمبا پیغام لکھا تھا لیکن مکمل پوسٹ نہیں ہوا؟؟؟؟؟
کہا یہ تھا کہ ’قریہ‘ کی آواز قریا جیسی نکلتی ہیے، اس لئے قریۂ درست ہوگا۔ جہاں ہ کی ہی آواز نکلے جیسے راہ، نگاہ، وہاں کسرہ سے اضافت بنے گی۔ نگاہِ کرم، راہِ نجات۔
یہ ۂ یہاں محفل میں کنٹرول اور آلٹ ایک ساتھ دباتے ہوئی ’او‘ کی کنجی سے بنتی ہے۔ یعنی قریہءِ دل غلط املا ہے۔
زھرا علوی — جون 6، 2008 8:27 شام
شکریہ عبید انکل اس اصلاح کے لیے مجھے واقعی میں کچھ الفاظ کے لکھنے کا طریقہ نہیں آیا اب تک۔۔۔ان میں سے ایک یہ بھی تھا امید کرتی ہوں آگے بھی یہ رہنمائی میسر رہے گی۔۔۔
