ہم تو گویا ہیں نسل بردوں کی
کائناتیں تمام مردوں کی
اس میں زہرہ مثال رہتی ہوں
یہ گلی ہے جہاں نوردوں کی
مرد کی بد قماش آنکھوں کو
ہے ضرورت دبیز پردوں کی
حور و غلمان بادہ و ساغر
پھر عمارات لاجوردوں کی
معتکف بھی رکھیں یہی خواہش
یہ تمنا حرم نوردوں کی
ایک عورت کی داستاں نیناں
آپ بیتی غموں کی دردوں کی
کائناتیں تمام مردوں کی
اس میں زہرہ مثال رہتی ہوں
یہ گلی ہے جہاں نوردوں کی
مرد کی بد قماش آنکھوں کو
ہے ضرورت دبیز پردوں کی
حور و غلمان بادہ و ساغر
پھر عمارات لاجوردوں کی
معتکف بھی رکھیں یہی خواہش
یہ تمنا حرم نوردوں کی
ایک عورت کی داستاں نیناں
آپ بیتی غموں کی دردوں کی
