یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی

محمد شکیل خورشید — دسمبر 12، 2022 10:55 صبح
دور دل کی چبھن نہیں ہوتی
گو جبیں پر شکن نہیں ہوتی
کچھ طبیعت میں میل ہوتا ہے
بے سبب یہ لگن نہیں ہوتی
مصلحت کوش ہے یہ شہر یہاں
رسمِ دار و رسن نہیں ہوتی
یہ تو دوری میں سانس رکتی ہے
قربتوں میں گھٹن نہیں ہوتی
کیا کہیں کیا عذاب ہیں اس میں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
کہتے لہجہ نڈھال ہوتا ہے
بات میں گو تھکن نہیں ہوتی
کچھ کم و بیش ہو ہی جاتی ہے
بات سب مِن و عن نہیں ہوتی
ہیں مخیر یہاں کے لوگ شکیل
لاش یاں بے کفن نہیں ہوتی
ایک تازہ کاوش
استادِ محترم الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 13، 2022 3:52 صبح
واہ ! بہت خوب ، شکیل بھائی!
ایک وقت کے بعد آپ کی غزل پڑھنے کو ملی۔ کئی اچھے اشعار ہیں ۔
کیا کہیں کیا عذاب ہیں اس میں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
بہت خوب!
الف عین — دسمبر 13، 2022 6:10 صبح
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید لیکن شادی کے بعد غزل کہی گئی ہے، ایسا لگتا نہیں
محمد شکیل خورشید — دسمبر 13، 2022 10:28 صبح
اچھی غزل ہے محمد شکیل خورشید لیکن شادی کے بعد غزل کہی گئی ہے، ایسا لگتا نہیں
درست پکڑا استادِ محترم!
یہ شادی سے پہلے شروع کی تھی، مکمل اب کہیں جاکے ہوئی
محمد شکیل خورشید — دسمبر 13، 2022 10:29 صبح
واہ ! بہت خوب ، شکیل بھائی!
ایک وقت کے بعد آپ کی غزل پڑھنے کو ملی۔ کئی اچھے اشعار ہیں ۔
کیا کہیں کیا عذاب ہیں اس میں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
بہت خوب!
پذیرائی کا شکریہ محترم
سیما علی — دسمبر 13، 2022 11:44 صبح
کہتے لہجہ نڈھال ہوتا ہے
بات میں گو تھکن نہیں ہوتی
کچھ کم و بیش ہو ہی جاتی ہے
بات سب مِن و عن نہیں ہوتی
بے حد کمال ۔
واہ واہ کیا خوب
کچھ کم و بیش ہو ہی جاتی ہے
بات سب من و عن نہیں ہوتی
سلامت رہیے شکیل بھائی ۔
محمداحمد — دسمبر 14، 2022 12:13 شام
واہ واہ واہ!
بہت عمدہ غزل ہے۔ ماشاء اللہ! مجھے بہت پسند آئی۔
مصلحت کوش ہے یہ شہر یہاں
رسمِ دار و رسن نہیں ہوتی

یہ تو دوری میں سانس رکتی ہے
قربتوں میں گھٹن نہیں ہوتی

کیا کہیں کیا عذاب ہیں اس میں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی

کچھ کم و بیش ہو ہی جاتی ہے
بات سب مِن و عن نہیں ہوتی

بالخصوص یہ اشعار تو بے حد خوب ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجے۔
عرفان علوی — دسمبر 15، 2022 4:36 صبح
دور دل کی چبھن نہیں ہوتی
گو جبیں پر شکن نہیں ہوتی
کچھ طبیعت میں میل ہوتا ہے
بے سبب یہ لگن نہیں ہوتی
مصلحت کوش ہے یہ شہر یہاں
رسمِ دار و رسن نہیں ہوتی
یہ تو دوری میں سانس رکتی ہے
قربتوں میں گھٹن نہیں ہوتی
کیا کہیں کیا عذاب ہیں اس میں
یونہی تخلیقِ فن نہیں ہوتی
کہتے لہجہ نڈھال ہوتا ہے
بات میں گو تھکن نہیں ہوتی
کچھ کم و بیش ہو ہی جاتی ہے
بات سب مِن و عن نہیں ہوتی
ہیں مخیر یہاں کے لوگ شکیل
لاش یاں بے کفن نہیں ہوتی
ایک تازہ کاوش
استادِ محترم الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
خورشید بھائی ، بہت دنوں بعد نظر آئے . بھائی ، آپ تو دوہری مبارکباد كے مستحق ہیں سو قبول فرمائیے . :)
محمد شکیل خورشید — دسمبر 15، 2022 5:47 صبح
واہ واہ واہ!
بہت عمدہ غزل ہے۔ ماشاء اللہ! مجھے بہت پسند آئی۔
بالخصوص یہ اشعار تو بے حد خوب ہیں۔
ڈھیروں داد قبول کیجے۔
زہے نصیب، پذیرائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — دسمبر 15، 2022 5:47 صبح
خورشید بھائی ، بہت دنوں بعد نظر آئے . بھائی ، آپ تو دوہری مبارکباد كے مستحق ہیں سو قبول فرمائیے . :)
بہت شکریہ محترم،

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C-%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82%D9%90-%D9%81%D9%86-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C.119111/