یوں تو دشوار بھی نہیں آئی

Atif Chauhdary — جنوری 21، 2018 11:03 صبح
یوں تو دشوار بھی نہیں آئی
راہ ہموار بھی نہیں آئی
فاصلہ خود ہی کر لیا پیدا
بیچ دیوار بھی نہیں آئی
عشق میں جیتنے کی خواہش تھی
ہاتھ تو ہار بھی نہیں آئی
خواب اس بار بھی بہت دیکھے
نیند اس بار بھی نہیں آئی
اپنے حصے میں پھول تھے ہی نہیں
شاخِ پر خار بھی نہیں آئی
دشمنی دشمنوں کو بھولی تھی
تہمتِ یار بھی نہیں آئی
عاطف چوہدری

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%D8%B4%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A2%D8%A6%DB%8C.99871/