یوں تو دیکھی ہیں بے شمار آنکھیں ۔۔۔۔۔ عمران شناور

عمران شناور — اگست 29، 2016 11:58 صبح
عمران شناور
یوں تو دیکھی ہیں بے شمار آنکھیں
وہ مگر تیری پرخمار آنکھیں
غم کی لہریں تھیں موجزن ان میں
میں نے دیکھی ہیں اشکبار آنکھیں
تیرے آنے کی آس ہے اب بھی
راہ تکتی ہیں بار بار آنکھیں
من کے اندر اگر اجالا ہو
دیکھ لیتی ہیں آر پار آنکھیں
خوبصورت لگے گی یہ دنیا
اپنے باطن کی تُو سنوار آنکھیں
گلزار خان — اگست 29، 2016 1:26 شام
عمران شناور

جزن ان میں


من کے اندر اگر اجالا ہو
دیکھ لیتی ہیں آر پار آنکھیں
خوبصورت لگے گی یہ دنیا
اپنے باطن کی تُو سنوار آنکھیں
واہ واہ بہت خوبصورت غزل لکھی ہے
گلزار خان — اگست 29، 2016 1:27 شام
مو جزن کا مطلب بھی بتادیں
شاہد شاہنواز — اگست 29، 2016 2:05 شام
مو جزن کا مطلب بھی بتادیں
موج زن کا مطلب یہاں " موجیں بکھیر رہی تھیں" لیا جاسکتا ہے۔۔
شاہد شاہنواز — اگست 29، 2016 2:05 شام
اچھا کلام ہے۔۔۔
تیرے آنے کی آس ہے اب بھی
راہ تکتی ہیں بار بار آنکھیں
نایاب — اگست 29، 2016 2:58 شام
بہت خوب
اچھا ذکر ہے ان کی آنکھوں کا ۔۔۔۔
بہت دعائیں
محمد وارث — اگست 30، 2016 3:54 صبح
خوب غزل ہے عمران شناور صاحب، لاجواب۔
محمد وارث — اگست 30، 2016 3:54 صبح
مو جزن کا مطلب بھی بتادیں
شاید اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو کہ جو زن موج میں ہو اسے موجزن کہتے ہیں :D
محمد تابش صدیقی — اگست 30، 2016 5:00 صبح
بہت عمدہ، کیا کہنے.
من کے اندر اگر اجالا ہو
دیکھ لیتی ہیں آر پار آنکھیں
خوبصورت لگے گی یہ دنیا
اپنے باطن کی تُو سنوار آنکھیں
الف عین — اگست 30، 2016 5:42 صبح
اچھی غزل ہے۔ مطلع میں ایطا کا کچھ کریں
عمران شناور — ستمبر 7، 2016 11:41 صبح
اچھی غزل ہے۔ مطلع میں ایطا کا کچھ کریں
جی بہتر اعجاز صاحب۔ بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DB%92-%D8%B4%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%93%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D9%88%D8%B1.91671/