آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا۔۔۔

اب کچھ کرتا ہوں اس بارے میں۔۔۔

یہ 25 دسمبر 2011 کی لکھی ہوئی ہے؛ اور ان دنوں میں تو even عروض کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا

اس غزل کے پیچھے (بھی) ایک کہانی ہے:
میں بھیونڈی میں اپنے ایک ماموں کو اپنی کچھ "شاعری" بتانے گیا۔ تو انہوں نے مجھے کچھ حد تک discourage کیا، شاید اس کی کوئی valid وجہ رہی ہو۔۔۔
خیر، تو وہاں سے واپسی میں سفر کے دوران ہی اس واقعہ پر کچھ "اشعار" بن گئے
including یہ مطلع:
مجھے دیکھ ہوتے ہیں حیران سب
پھر گھر آ کر جب میں انہیں پوری "غزل" بنارہا تھا تب یہ ایک شعر بنا:
جو پرکھا تو دو چار پایا فقط
دکھائی تو دیتے ہیں انسان سب
اب مجھے یہ بات درست نہیں لگی کہ اس (مسلسل) غزل میں یہ شعر ڈالوں؛ لیکن شعر بھی مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا، تو "مجبوری" میں (اسی وقت) دوسری غزل کی کوشش کر ڈالی جو کہ اوپر پوسٹ کی گئی ہے۔
یہ دونوں غزلیں ایک ہی وقت میں "بنی" تھیں۔
ہائے اللہ، میں کتنا کہہ گیا۔۔
