یہ اک غنچہ جو مہکایا گیا ہے

عظیم — مئی 4، 2023 10:13 صبح
ایک بالکل تازہ غزل جو ابھی ابھی لکھی گئی ہے! پیش خدمت ہے

یہ اک غنچہ جو مہکایا گیا ہے
کسی کی یاد میں لایا گیا ہے
بہلتا تھا نہ دل دیوانوں کا جب
انہیں پھر شعر سکھلایا گیا ہے
یہ خانہ ہے مسافر خانہ ایسا
یہاں جو بھی کبھی آیا گیا ہے
مرا دل ہے کہ قبرستان کوئی
یہاں ہر خواب دفنایا گیا ہے
جو اس کی کھوج میں نکلا ہے آخر
وہ خود سے دور ہی پایا گیا ہے
کسی کی آنکھ پر پر دے ہیں لاکھوں
کسی کو خوب دکھلایا گیا ہے
کہاں تھا دل مرا دھبوں سے بھرپور
کہاں اس ہاتھ میں لایا گیا ہے
لٹا کر جاں گئے اس راہ میں لوگ
مرا کیا؟ صرف سرمایہ گیا ہے!
عظیم اس کے لیے سب کچھ ہے قربان
جو میرا ہے یہ بتلایا گیا ہے

الف عین — مئی 6، 2023 3:34 صبح
خوب بیٹا عظیم
دوسرا شعر البتہ خستہ روانی کی وجہ سے اچھا نہیں لگا
کسی کو خوب؟ یا خواب دکھلایا گیا ہے؟
عظیم — مئی 6، 2023 7:59 صبح
خوب بیٹا عظیم
دوسرا شعر البتہ خستہ روانی کی وجہ سے اچھا نہیں لگا
کسی کو خوب؟ یا خواب دکھلایا گیا ہے؟
جزاک اللہ خیر بابا، جی بابا دوسرا شعر رواں نہیں کہہ سکا
میری مراد خوب دکھلایا گیا ہے
جاسمن — مئی 6، 2023 5:06 شام
خوب!
سیما علی — مئی 6، 2023 5:15 شام
لٹا کر جاں گئے اس راہ میں لوگ
مرا کیا؟ صرف سرمایہ گیا ہے!
بہت خوب بہت خوب
عظیم — مئی 7، 2023 9:32 صبح
بہت بہت شکریہ آپ دونوں کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A7%DA%A9-%D8%BA%D9%86%DA%86%DB%81-%D8%AC%D9%88-%D9%85%DB%81%DA%A9%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92.119493/