مریم افتخار — اگست 13، 2016 5:58 شام
یہ میرے گِرد ہے کیسا جہانِ آزادی
جہاں نہیں کوئی نام و نشانِ آزادی
لہُو غریب کا ارزاں ہے اِس قدر کہ یہاں
اِسی سے جاتے ہیں دھوئے بُتانِ آزادی
مِرے وطن تِرے یہ لعل کَٹ رہے ہیں روز
لہُو سے تَر ہے تِرا بادبانِ آزادی
دیارِ غیر میں کشکول پکڑے پِھرتے ہیں
مرے وطن! ترے سب ترجمانِ آزادی
نہیں ہے تاب کہ دیکھوں ترا بدن مقرُوض
بتاؤ کِتنا بھروں مَیں لگانِ آزادی؟
مِرے خُدا ! نہ دِکھانا ہمارا حال اُسے
وہ ایک شخص جو تھا باغبانِ آزادی
اِسی میں خوش ہو اگر , تو تمہیں مبارک ہو!
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
(مریم افتخار)
مریم افتخار — اگست 13، 2016 5:59 شام
ماہی احمد — اگست 13، 2016 6:16 شام
یہ میرے گِرد ہے کیسا جہانِ آزادی
جہاں نہیں کوئی نام و نشانِ آزادی
لہُو غریب کا ارزاں ہے اِس قدر کہ یہاں
اِسی سے جاتے ہیں دھوئے بُتانِ آزادی
مِرے وطن تِرے یہ لعل کَٹ رہے ہیں روز
لہُو سے تَر ہے تِرا بادبانِ آزادی
دیارِ غیر میں کشکول پکڑے پِھرتے ہیں
مرے وطن! ترے سب ترجمانِ آزادی
نہیں ہے تاب کہ دیکھوں ترا بدن مقرُوض
بتاؤ کِتنا بھروں مَیں لگانِ آزادی؟
مِرے خُدا ! نہ دِکھانا ہمارا حال اُسے
وہ ایک شخص جو تھا باغبانِ آزادی
اِسی میں خوش ہو اگر , تو تمہیں مبارک ہو!
یہ اہتمام , یہ جشنِ گمانِ آزادی
(مریم افتخار)
کیسا سچ بیان کر دیا نا پوری ہی غزل میں... بہت عمدہ!

جیتی رہئیے

نایاب — اگست 13، 2016 8:12 شام
واہہہہہہہہہ
بلاشک یہی ہے صدا ہر حساس دل و روح کے حامل کسی بھی پاکستانی کی
اللہ کرے میرے ارض وطن پر اترے وہ بہار جسے نہ کبھی زوال ہو ۔
ملے آزادی کے اس خواب کی تعبیر جس کے لیے لاکھوں نے دی قربانی اپنی جان کی ۔۔۔۔آمین
ڈھیروں دعائیں
ارسلان احمد — اگست 13، 2016 8:26 شام
محفل کے تمام دوستوں کو میری طرف سے جشنِ آزادی مبارک ہو

فاخر رضا — اگست 13، 2016 8:30 شام
جشن آزادی مبارک
محمد امین — اگست 13، 2016 9:51 شام
اللہ اللہ۔۔ کڑوا سچ۔۔۔
مریم افتخار — اگست 14، 2016 4:10 صبح
بہت شکریہ !
خیر مبارک!
قاری محمد عثمان صدیقی — اگست 14، 2016 5:37 صبح
کاش خدا بھیج دے کوئی پاس بان آزادی
مریم افتخار — اگست 14، 2016 6:04 صبح
کاش خدا بھیج دے کوئی پاس بان آزادی
آئیے خود کچھ کریں
ہر الزام خدا پہ کیوں دھریں؟
فاخر رضا — اگست 14، 2016 6:29 صبح
سر کٹا کے نہیں اٹھا کے جیو بندگان آزادی
ربیع م — اگست 14، 2016 6:35 صبح
بہت عمدہ بہنا جی
ظہیراحمدظہیر — اگست 14، 2016 6:36 صبح
بہت خوب!! اظہارِ عقیدت کی کوئی لے نہیں ہوتی اور نہ اس پر کوئی تنقید و تبصرہ!!
اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں میں اس ورثہء اسلاف کی محبت زندہ رکھے۔ آمین ۔
محمد وارث — اگست 14، 2016 6:45 صبح
انتہائی خوبصورت غزل ہے ، ایک ایک شعر فکر انگیز ہے، زبانِ حال سے اپنی سچائی بیان کرتا ہوا۔ بہت دادآپ کے لیے، لاجواب!
محمد تابش صدیقی — اگست 14، 2016 6:47 صبح
لاجواب مریم بہن۔
بہت عمدگی سے احساسات کو بیان کیا ہے۔
مریم افتخار — اگست 14، 2016 7:14 صبح
بہت شکریہ بھیا جی!!
بہت خوب!! اظہارِ عقیدت کی کوئی لے نہیں ہوتی اور نہ اس پر کوئی تنقید و تبصرہ!!
اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں میں اس ورثہء اسلاف کی محبت زندہ رکھے۔ آمین ۔
آمین ثم آمین ! بے حد شکریہ بھیا!
انتہائی خوبصورت غزل ہے ، ایک ایک شعر فکر انگیز ہے، زبانِ حال سے اپنی سچائی بیان کرتا ہوا۔ بہت دادآپ کے لیے، لاجواب!
بہت بہت شکریہ وارث بھیا! آپ کے یہ سب الفاظ میرے لیے بہت بہت معنی رکھتے ہیں!!!
لاجواب مریم بہن۔
بہت عمدگی سے احساسات کو بیان کیا ہے۔
بہت شکریہ تابش بھیا!!!
صفی حیدر — اگست 14، 2016 7:26 صبح
مِرے خُدا ! نہ دِکھانا ہمارا حال اُسے
وہ ایک شخص جو تھا باغبانِ آزادی
عمدہ تخلیق ہے ۔۔۔۔۔ آزادی خود احتسابی کے ساتھ بھلی لگتی ہے ۔۔۔
محمداحمد — اگست 14، 2016 7:29 صبح
کمال است
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا.
ماشاءاللہ جیتی رہو.
لاریب مرزا — اگست 14، 2016 7:32 صبح
بہت خوب مریم!!

عباد اللہ — اگست 14، 2016 7:55 صبح
لاجواب