یہ بھٹکنا فقط بہانہ ہے۔۔ آصف شفیع

آصف شفیع — اکتوبر 17، 2009 12:15 شام
ایک غزل احباب کی خدمت میںً۔ آرا کا نتظار رہے گا۔
غزل:
یہ بھٹکنا فقط بہانہ ہے
سب کے پیشِ نظر خزانہ ہے
کل وہاں خاک بھی نہیں ہو گی
آج میرا جہاں ٹھکانہ ہے
میرے حصے میں آئے گا اک دن
میری قسمت میں جو بھی دانہ ہے
آندھیوں کو خبر نہیں شاید
شاخ ہی میرا آشیانہ ہے
آپ عادی پرانے وقتوں کے
اب ذرا مختلف زمانہ ہے
اپنے اپنے ہنر میں ہے یکتا
کوئی غالب، کوئی یگانہ ہے
حسن کا میں اسیر ہوں آصف
میری فطرت ہی شاعرانہ ہے

( آصف شفیع)
عمران شناور — اکتوبر 17، 2009 12:36 شام
بہت عمدہ۔ نہایت اچھے اشعار ہیں۔ پوری‌غزل اچھی ہے۔ مبارک باد اور داد قبول ہو۔
(از راہِ معذرت -فی البدیہ)
یوں تو اشعار سبھی اچھے ہیں
کچھ کا مضموں مگر پرانا ہے
الف عین — اکتوبر 17، 2009 5:28 شام
عمران شناور کی بات میں دم ہے آصف، غزل اچھی ہے، لیکن اتنی بھی اچھی نہیں۔ مطلع کچھ مبہم ہے۔
آصف شفیع — اکتوبر 18، 2009 8:26 صبح
گھر کا گھر گو کہ سب پرانا ہے
جس نے آنا ہے ، اس نے آنا ہے
محمد وارث — اکتوبر 18، 2009 3:31 شام
حسن کا میں اسیر ہوں آصف
میری فطرت ہی شاعرانہ ہے
واہ واہ واہ، لاجواب آصف صاحب!
فاتح — اکتوبر 31، 2009 6:21 شام
خوبصورت غزل پر مبارک باد۔ مقطع کی تو کیا ہی بات ہے۔ سبحان اللہ!
ناہید — نومبر 5، 2009 9:23 شام
کیا بات ہے آپ اور آپ کی شاعرانہ فطرت کی ۔ اچھی غزل ہے۔
ایم اے راجا — نومبر 5، 2009 9:30 شام
بہت خوب جناب لاجواب واہ واہ
آصف شفیع — نومبر 6، 2009 5:22 شام
کیا بات ہے آپ اور آپ کی شاعرانہ فطرت کی ۔ اچھی غزل ہے۔

جی جی، حسن پرستی تو شاعر کی فطرت ہوتی ہے۔ آپ بھی تو شاعرہ ہیں ناں!:)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DA%BE%D9%B9%DA%A9%D9%86%D8%A7-%D9%81%D9%82%D8%B7-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%81-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94-%D8%A2%D8%B5%D9%81-%D8%B4%D9%81%DB%8C%D8%B9.26095/