یہ بھی ایک اداسی ہے (غزل)

Atif Chauhdary — نومبر 3، 2017 10:16 صبح
چپ چپ رہنا کچھ نہ کہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
ہنس کرسارے صدمے سہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
بیٹھے بیٹھے کھو سا جانا یونہی دور خلاؤں میں
چلتے چلتے ہنستے رہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
مار کے کنکر لہریں گننا ،بیٹھے جھیل کنارے پر
کچھ لوگوں کا ہے یہ کہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
بے تابی سے اٹھنا جب بھی بولے کاگ منڈیروں پر
یاد کا ہر اک چھت پر بہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
دروازے پر ناری بیٹھی روز پیا کی آس لگائے
ہاتھوں میں ہو پیار کا گہنا یہ بھی ایک اداسی ہے
شاعر : عاطف چوھدری
کتاب : محبت کم نہیں کرنا
الف عین — نومبر 3، 2017 4:56 شام
،اشاء اللہ صاب کتاب ہیں؟ اچھی غزل ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84.98928/