یہ بھی تو بچے ہیں - اِبنِ اُمید

اِبنِ اُمید — نومبر 10، 2011 12:47 شام
★★★★★★★★★★★★
کبھی تو فرصت کے موسموں میں
کسی بڑے شہر کی نکڑ پہ
کچی بستی کے سہمے سہمے
ننھے بچوں کے چہرے پڑھنا
کہ جن کے ننگے بدن نجانے
کتنی ہی خنک رتوں کو
لباس کر کے پہن چکے ہیں
معصوم سے ہاتھ، پھول چہرے
کھلونے روٹی کے مانگتے ہیں
زرد موسم نجانے کتنی
بہاریں اُن کی نگل چکے ہیں
کئی تو ہیں جو کہ پیدا ہوتے ہی
بچپنے سے نکل چکے ہیں
اُن کی آنکھوں میں دیکھو اک بار
حسرتیں برف بن گئی ہیں
اُن کے حصے کی خوشیاں تھیں جو
کبھی یہ سوچا، کدھر گئی ہیں؟
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.ibn-e-Umeed.com
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
فاروق درویش — نومبر 10، 2011 6:49 شام
برادر محترم ابن امید آپ کی یہ نظم میرے ناقص علم کے مطابق بحر سے خارج ہے ، بہتر ہے کہ آپ اپنا کلام ،، اصلاح سخن ،، میں پوسٹ کریں تاکہ برادرم عبید صاحب ، محمود مغل صاحب اورمحمد وارث صاحب جیسے اساتذہ آپ کی راہنمائی اور اصلاح فرما سکیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%DA%86%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%90%D8%A8%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%8F%D9%85%DB%8C%D8%AF.34981/