یہ دل نثار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

عاطف ملک — اکتوبر 3، 2019 5:35 صبح
ایک کاوش احباب کے ذوق کی نذر:

رہینِ یار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
یہ دل نثار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
سراپا سادگی، پیکر حیا کا، نرم مزاج
میں اس سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
عجب مٹھاس تھی اس بے وفا کی باتوں میں
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
شکستہ دل کو اسی دل شکن کی چوکھٹ پر
گلہ گزار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جہان بھر میں فقط ایک آرزو تھی مجھے
وہ بار بار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
اگرچہ تِیر تھا لیکن تری نگاہ کا تھا
جگر کے پار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جو حالِ دل مرا، سب راز میرے جانتا تھا
وہ مجھ پہ وار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
ترا خیال گلستانِ قلبِ عاطفؔ کو
جو مشکبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 3، 2019 5:46 صبح
واہ واہ واہ! عاطف بھائی ! بہت رواں دواں غزل ہے! تغزل سے بھرپور!
شکستہ دل کو اسی دل شکن کی چوکھٹ پر
گلہ گزار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جہان بھر میں فقط ایک آرزو تھی مجھے
وہ بار بار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
کیا اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیں ! بہت داد!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 3، 2019 6:49 صبح
عجب مٹھاس تھی اس بے وفا کی باتوں میں
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
ہائے ہائے ،
کیا بات کر دی ،
واہ بہت عمدہ ،
شاندار غزل ۔
عاطف ملک — اکتوبر 4، 2019 4:36 صبح
واہ واہ واہ! عاطف بھائی ! بہت رواں دواں غزل ہے! تغزل سے بھرپور!
شکستہ دل کو اسی دل شکن کی چوکھٹ پر
گلہ گزار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جہان بھر میں فقط ایک آرزو تھی مجھے
وہ بار بار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
کیا اچھے اشعار ہیں ! سلامت رہیں ! بہت داد!
بہت نوازش محترم:)
اساتذہ کی تعریف پہ تو :redheart:
ہائے ہائے ،
کیا بات کر دی ،
واہ بہت عمدہ ،
شاندار غزل ۔
شکریہ عدنان بھائی:)
فاخر رضا — اکتوبر 4، 2019 6:58 شام
بہت اچھے
ماشاءاللہ
عبید انصاری — اکتوبر 5، 2019 2:04 صبح
بہت ہی خوبصورت غزل!
عاطف ملک — اکتوبر 9، 2019 1:19 شام
بہت اچھے
ماشاءاللہ
بہت شکریہ:)
بہت ہی خوبصورت غزل!
نوازش:)
احمد محمد — اکتوبر 9، 2019 5:02 شام
واہ۔۔ بہت عمدہ ملک صاحب۔ شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 9، 2019 5:05 شام
ایک کاوش احباب کے ذوق کی نذر:

رہینِ یار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
یہ دل نثار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
سراپا سادگی، پیکر حیا کا، نرم مزاج
میں اس سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
عجب مٹھاس تھی اس بے وفا کی باتوں میں
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
شکستہ دل کو اسی دل شکن کی چوکھٹ پر
گلہ گزار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جہان بھر میں فقط ایک آرزو تھی مجھے
وہ بار بار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
اگرچہ تِیر تھا لیکن تری نگاہ کا تھا
جگر کے پار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
جو حالِ دل مرا، سب راز میرے جانتا تھا
وہ مجھ پہ وار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
ترا خیال گلستانِ قلبِ عاطفؔ کو
جو مشکبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
خوبصورت۔ خوبصورت!!!
محمد وارث — اکتوبر 10، 2019 4:41 صبح
عمدہ غزل ہے ڈاکٹر صاحب، بہت خوب۔
فرحان محمد خان — اکتوبر 20، 2019 8:13 صبح
❤❤
عاطف ملک — اکتوبر 20، 2019 3:08 شام
عمدہ غزل ہے ڈاکٹر صاحب، بہت خوب۔
آپ جیسے اساتذہ کی پسندیدگی ہمارے لیے بہت معنیٰ رکھتی ہے۔
بہت بہت شکریہ وارث صاحب:)
محبت ہے بھیا آپ کی:)
بے پناہ محبت:redheart:
محمد شکیل خورشید — نومبر 11، 2019 9:33 صبح
جگر کے پار نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔۔۔۔
کمال کی بندش ہے جناب اعلیٰ
بافقیہ — نومبر 12، 2019 5:34 صبح
بہت اعلیٰ :thumbsup2:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D9%84-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%D8%AA%D9%88-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7.108669/