یہ سانسوں کے رشتے بھی نبھائے نہیں جاتے

اِبنِ اُمید — نومبر 10، 2011 12:38 شام
---------------------------------------------------------------------------------
یہ سانسوں کے رشتے بھی نبھائے نہیں جاتے
اب ناز یہ لاشے کے اُٹھائے نہیں جاتے
کچھ لوگ زمانے میں، موزوں ہی نہیں ہوتے
اندازِ جہاں اُن کو سکھائے نہیں جاتے!
زَردار ہی آدابِ حکومت سے ہیں واقف
عوام سے سردار اُٹھائے نہیں جاتے
کرِدار تو حالات کے گرداب سے اُبھریں
مٹی سے تو افکار بنائے نہیں جاتے
مسافر کی لگن آنچ کو جانچنے خاطر
کچھ رستے منازل سے ملائے نہیں جاتے
لفظوں سے مرے کرب کی آتش کو چھُوﺅ ناں
دل کھول کے وائے کہ دکھائے نہیں جاتے
ஜ۩۞۩ஜ اِبنِ اُمید ஜ۩۞۩ஜ
http://www.facebook.com/ibn.e.umeed
فاروق درویش — نومبر 10، 2011 6:34 شام
کچھ مصرعے بحر سے خارج ہیں اور کچھ اشعار معنوی و مفہوم کے اعتبار سے ابہام رکھتے ہیں ، غزل نظر ثانی چاہتی ہے
مسافر کی لگن آنچ کو جانچنے خاطر ؟
کچھ لوگ زمانے میں، موزوں ہی نہیں ہوتے ؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%D8%B4%D8%AA%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92.34979/