یہ مرا غم کسی صورت نہیں گھٹنے والا

ظہیراحمدظہیر — فروری 1، 2018 4:22 شام
یہ مرا غم کسی صورت نہیں گھٹنے والا
ناخدا تھا مری کشتی کو اُلٹنے والا
لذتِ درد کا موسم بھی کبھی بدلا ہے؟
ابرِ غم سر سے یہ برسوں نہیں چھَٹنے والا
چھوڑ کر دیکھ تو احساس کا دامن اے دل
غم رہے گا نہ کوئی جاں سے لپٹنے والا
راہِ تسکین پہ لے آئی تمنا مجھ کو
زندگی بھر بھی سفر اب نہیں کٹنے والا
مانتا ہوں کہ نظرمجھ کو ملی ہے لیکن
کوئی منظر بھی تو ہو دل میں سمٹنے والا
حرمت ِ حرفِ یقیں دل پر اُتاری جائے
میں کوئی نام زبانی نہیں رَٹنے والا
ملک الموت اٹھائے تو اٹھائے آکر
میں ترے در سے ہٹائے نہیں ہٹنے والا
ظہیر احمد ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۲​
محمد وارث — فروری 2، 2018 3:26 صبح
لاجواب، آخری شعر تو بس جان ہی لے گیا!
محمد تابش صدیقی — فروری 2، 2018 4:07 صبح
بہت خوب ظہیر بھائی
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 2، 2018 5:55 صبح
ماشاءاللہ،
بہت اعلی اور زبردست غزل۔
فہد اشرف — فروری 2، 2018 5:59 صبح
واہ کیا شاندار غزل ہے بہت خوب ظہیر بھائی
لاریب مرزا — فروری 2، 2018 10:47 صبح
لاجواب!
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:05 شام
لاجواب، آخری شعر تو بس جان ہی لے گیا!
اس داد پر تو داد بنتی ہے وارث صاحب قبلہ ! کیا بات ہے آپ کے پیرایہء اظہار کی ! داد بھی حسبِ شعر دی ہے! :):):)
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:06 شام
بہت خوب ظہیر بھائی
بہت بہت شکریہ ! ممنون ہوں تابش بھائی! سلامت رہئے!
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:07 شام
ماشاءاللہ،
بہت اعلی اور زبردست غزل۔
نوازش حبیبی نقیبی! اللہ آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:08 شام
واہ کیا شاندار غزل ہے بہت خوب ظہیر بھائی
بہت شکریہ فہد! آپ کی داد سے بہت خوشی ہوتی ہے ! اللہ آپ کا ذوق سلامت رکھے اور سدا خوش و خرم رکھے!
ظہیراحمدظہیر — فروری 5، 2018 7:09 شام
بہت بہت شکریہ لاریب! اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائے! سلامت رہیں !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81-%D9%85%D8%B1%D8%A7-%D8%BA%D9%85-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DA%BE%D9%B9%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7.100005/