یہی سوچا کہ آخر کیا کریں گے اتنی رسوائی

anwarjamal — ستمبر 2، 2012 1:12 شام
ہوا میں آشنائے شدت _ احساس _ تنہائی
یکایک موت آکر جب مرے پہلو میں غرائی
پتنگے کی طرح جل جانے کا سوچا جو محفل میں
ارادے بھانپ کر جلتی ہوئی لو اور تھرائی
مرے ماضی کے گم گشتہ ورق اڑتے ہوئے آئے
کسی کی یاد جب نظروں کے آگے آکے چکرائی
بہت ہی حوصلے سے مسکرا کر ملنے والوں کی
بچھڑتے وقت جانے کس طرح آواز بھر آئی
بہت کچھ لکھتے لکھتے رہ گئے ان کاغذوں پر ھم
یہی سوچا کہ آخر کیا کریں گے اتنی رسوائی
انور جمال انور
محمد وارث — ستمبر 3، 2012 7:38 صبح
خوب غزل ہے جناب انور صاحب
شاہد شاہنواز — ستمبر 3، 2012 5:53 شام
بہرحال قافیے میں بہت گنجائش تھی۔۔ آپ نے کم لکھ کر زیادتی کی ہے، تاہم جو لکھا، بہت خوب ہے۔۔۔ داد قبول کیجئے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DB%8C%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%88%DA%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D8%A7%D8%AA%D9%86%DB%8C-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C.53987/