مغزل — نومبر 2، 2011 7:46 صبح
شور
تمھاری یاد کے موسم !
کسی بے ساختہ پل میں ۔۔
مجھے سرگوشیاں کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔۔
میں خود سے دُور ہوتا جارہا ہوں
انہیں اب کیا بتاؤں ؟
تم بتاؤ ناں۔۔
مجھے معلوم ہےا س بار بھی تم کچھ نہ بولوگے۔۔۔
تمھاری خوش لحانی کے بہت سے بد گماں موتی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر۔۔۔
ہزاروں سیپیوں کے درمیاں ۔۔
بکھرے پڑے معلوم ہوتے ہیں۔۔۔
مجھے معلوم ہے اس بار بھی تم کچھ نہ بولو گے۔۔
چلو !
میں ہی بتاتا ہوں۔۔۔
کسی کے خواب آنکھوں میں ۔۔۔۔
دھندلکے بن کے پھیلے ہوں ۔۔۔
تو کچھ اچھّا نہیں لگتا !
مگر سرگوشیاں ۔۔۔
اب شور بنتی جارہی ہیں۔
م۔م۔مغل ، کراچی
محمد امین — نومبر 2، 2011 11:01 صبح
واہ۔۔۔ بہت زبردست۔۔۔ کیا خوب کہا ہے بھیا۔۔۔
الف عین — نومبر 3، 2011 6:00 صبح
اچھی نظم ہے محمود۔
محمود احمد غزنوی — نومبر 3، 2011 8:36 صبح
کسی کے خواب آنکھوں میں
دھندلکے بن کے پھیلے ہوں
تو ہر شئے پیاری لگتی ہے
کہیں سرگوشیاں ہوں، خامشی ہو، شور ہو ،کچھ ہو
عجب سرشاری لگتی ہے
محبّت گیت ہے ایسا ۔۔۔۔۔۔
مغزل — نومبر 3، 2011 9:35 صبح
واہ۔۔۔ بہت زبردست۔۔۔ کیا خوب کہا ہے بھیا۔۔۔
شکریہ امین سلامت رہو دوست

مغزل — نومبر 3، 2011 10:22 صبح
شکریہ بابا جانی ، آپ کی حوصلہ افزائی میرے لیے سرمایہِ افتخار ہے۔

مغزل — نومبر 3، 2011 10:24 صبح
کسی کے خواب آنکھوں میں
دھندلکے بن کے پھیلے ہوں
تو ہر شئے پیاری لگتی ہے
کہیں سرگوشیاں ہوں، خامشی ہو، شور ہو ،کچھ ہو
عجب سرشاری لگتی ہے
محبّت گیت ہے ایسا ۔۔۔۔۔۔
محمود صاحب ۔ میں آپ کا مراسلہ سمجھ نہ سکا ۔۔
کیا ہے کسی دیگر نظم کا اقتباس ہے اور آپ نے حوالہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔۔ ؟؟
اگر ایسا ہے تو میں اپنی نظم حذف کر دیتا ہوں۔۔
محمد وارث — نومبر 3، 2011 12:02 شام
کیا کہنے مغل صاحب، بہت خوبصورت نظم ہے، لاجواب۔
محمود احمد غزنوی — نومبر 3، 2011 7:30 شام
محمود صاحب ۔ میں آپ کا مراسلہ سمجھ نہ سکا ۔۔
کیا ہے کسی دیگر نظم کا اقتباس ہے اور آپ نے حوالہ کے طور پر پیش کیا ہے ۔۔ ؟؟
اگر ایسا ہے تو میں اپنی نظم حذف کر دیتا ہوں۔۔
ایسی بات ہرگز نہین ہے مغل صاحب۔۔۔کمال کرتے ہیں آپ بھی۔۔۔حضرت بات صرف اتنی ہے کہ آپکی نظم پڑھ کر جی چاہا کہ کچھ اسی لہر یا بحر میں لکھا جائے۔۔۔ان دو چار جملوں کی تک بندی پر معزرت خواہ ہوں۔۔۔بدگمانی نہ کیا کریں۔۔۔
محمود بھی محمود سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
مغزل — نومبر 4، 2011 5:22 صبح
کیا کہنے مغل صاحب، بہت خوبصورت نظم ہے، لاجواب۔
متشکرم وارث صاحب۔ آپ کی حوصلہ افزائی کی اس راہ میں خاکسار کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ سلامت باشید روز بخیر بسیار ممنون آغا
فاروق درویش — نومبر 4، 2011 9:40 صبح
برادر م۔م۔ مغل صاحب ! اوّل تا آخر، بہت خوبصورت نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوش آباد
مغزل — دسمبر 23، 2011 6:35 صبح
ایسی بات ہرگز نہین ہے مغل صاحب۔۔۔ کمال کرتے ہیں آپ بھی۔۔۔
حضرت بات صرف اتنی ہے کہ آپکی نظم پڑھ کر جی چاہا کہ کچھ اسی لہر یا بحر میں لکھا جائے۔۔۔ ان دو چار جملوں کی تک بندی پر معزرت خواہ ہوں۔۔۔ بدگمانی نہ کیا کریں۔۔۔
محمود بھی محمود سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
ارے نہیں قبلہ ، یہ بدگمانی نہیں احتیاط ہے میرے بھائی ۔۔
بندہ بشر ہوں سو مجھ سے بھی اغلاط کا ورود تو ممکن ہے ناں۔۔
اللہ جزا عطا کرے پیارے صاحب
مغزل — دسمبر 23، 2011 6:37 صبح
برادر م۔م۔ مغل صاحب ! اوّل تا آخر، بہت خوبصورت نظم ۔ خوش آباد
فاروق درویش صاحب آپ کی توجہ میرے لیے راہِ نجات ہے ۔
حوصلہ افزائی اور محبتوں پر سراپا سپاس ہوں۔ جزاللہ
ایم اے راجا — دسمبر 23، 2011 6:41 صبح
بہت خوب بہت داد قبول ہو مغل بھیا
مغزل — دسمبر 23، 2011 6:46 صبح
بہت خوب بہت داد قبول ہو مغل بھیا
بہ سروچشم پیارے بھائی ۔ جزاک اللہ ، محض آپ کی محبت ہے وگرنہ من آنم کہ من دانم
ایس فصیح ربانی — دسمبر 29، 2011 6:19 شام
بہت خوب محمود بھائی
بہت اچھی نظم ہے، داد قبول کیجیے۔
اس میں واوین میں دیا گیا مصرعہ “میں خود سے دُور ہوتا جارہا ہوں ‘‘، میرے علم کے مطابق محترم سید معراج جامی کا ہے۔
بہت مشہور ہوتا جا رہا ہوں
“میں خود سے دُور ہوتا جارہا ہوں ‘‘
اور خوش الحانی تو سنا اور پڑھا تھا یہ خوش لحانی میرے لیے نیا ہے۔
مغزل — دسمبر 30، 2011 6:26 صبح
جزاک اللہ
ایس فصیح ربانی بھائی ، ممکن ہے معراج جامی کا ہو مصرع، مجھے تامل ہوا کہ یہ ’’ روزمرّہ ‘‘ کا مصرع ہے سو احتیاطاَ واوین کی قید میں دے دیا۔
خوش الحانی ہی درست ہے ، ’’ خوش لحانی ‘‘ تصرّفِ شعری و ذاتی کے طور پر روانی میں مصرع کا حصّہ بنا، جزاک اللہ ، آپ کی محبتوں پر سراپا سپاس ہوں۔
مغزل — جنوری 13، 2012 9:39 صبح
شور یاد آگیا تو شوریدہ سری یہاں لے آئی ۔۔
ناعمہ عزیز ، فرحت کیانی ، مقدس
مقدس — جنوری 13، 2012 10:05 صبح
ویری نائس مغل بھیا
اور اتنی آسان کے مجھے بھی سمجھ آگئی
مغزل — جنوری 13، 2012 10:09 صبح
ویری نائس مغل بھیا
اور اتنی آسان کے مجھے بھی سمجھ آگئی
جیتی رہو گڑیا سلامت رہو۔۔