بہت شکریہ استاد محترم۔ شاید اس میں مناسب الفاظ ہی کی ضرورت تھی جو آپ کی اصلاح سے پوری ہوگئی۔ آخری شکل یہ ہے:
آرزوئے وصال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے
دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
اپنے دل کا خیال مت کیجے
میں نے دیکھا ہے چاند کو روتے
رات کو عرضِ حال مت کیجے
جو اسے لاجواب کر ڈالے
کوئی ایسا سوال مت کیجے
اس کے وعدے تمام جھوٹے ہیں
اس طرح دل نہال مت کیجے
دل تو آخر رقیب ہی ٹھہرا
اس سے کچھ بول چال مت کیجے
کیوں پریشاں ہیں، چھوڑیے عمار
اپنا جینا محال مت کیجے
ایک بار پھر بہت شکریہ۔
بہت شکریہ۔