جیا راؤ — اکتوبر 29، 2009 7:47 صبح
آنکھوں میں انتظار کی شمعیں جلا کے رکھ
اے دل وہ آج آئے گا تو گھر سجا کے رکھ !
غیروں کو سونپ دے تو مجھے اپنے ہاتھ سے
جو یوں نہیں تو مجھ کو پھر اپنا بنا کے رکھ !
کس نے کہا کلی کو یہ چپکے سے کان میں
'چہرے پہ رنگ سارے سجا کر حیا کے رکھ!'
صدیوں کے بعد وصل ہے اقرار کر بھی لے
جذبوں کو آج تو نہ مری جاں! چھپا کے رکھ !
میں عشق ہوں سو مجھ پہ ہوئی ہے وفا تمام
تو حسن ہے تو ماتھے پہ تیور جفا کے رکھ !
اقرار کر کسی سے جیا! نہ تو عشق کر
جذبات سارے قدموں میں اپنی انا کے رکھ !
فاتح — اکتوبر 29، 2009 8:19 صبح
اس خوبصورت غزل پر مبارکباد۔
محمد وارث — نومبر 2، 2009 5:06 صبح
اچھی غزل ہے جیا راؤ صاحبہ، لاجواب
شاہ حسین — نومبر 2، 2009 10:23 شام
بہت خوب عمدہ کاوش ہے مُبارکباد قبول فرمائیں ۔
الف عین — نومبر 4، 2009 4:34 صبح
ارے یہ میری نظروں سے کیسے بچی رہی؟
اچھی غزل ہے جیا۔ اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت تو نہیں ہے، کچھ الفاظ کی نشست البتہ بہتر کی جا سکتی ہے۔ جیسے یہ شعر
غیروں کو سونپ دے تو مجھے اپنے ہاتھ سے
جو یہ نہیں تو مجھ کو پھر اپنا بنا کے رکھ !
اس میں دوسرے مصرع میں یہ‘ کی بہ نسبت ’یوں‘ بہتر ہے۔
جو یوں نہیں تو مجھ کو پھر اپنا بنا کے رکھ !
مطلع کا بھی سوچو، اس کا بہتر روپ یوں ہو سکتا ہے کہ اتنا یقین کیوں ہے کہ وہ آج آئے گا، زیادہ حسن اس میں ہے کہ پتہ نہیں وہ کب آ جائے اس لئے ہر وقت انتظار کی شمعیں روشن رکھنے کی ضرورت ہے!!
محمود احمد غزنوی — نومبر 4، 2009 4:39 صبح
زبردست۔ ۔ ۔
Imran Niazi — نومبر 4، 2009 3:24 شام
بہت ہی زبردست جناب
ایم اے راجا — نومبر 5، 2009 9:33 شام
میں عشق ہوں سو مجھ پہ ہوئی ہے وفا تمام
تو حسن ہے تو ماتھے پہ تیور جفا کے رکھ !
واہ واہ لاجواب جیہ صاحبہ بہت خوب
ایم اے راجا — نومبر 5، 2009 9:34 شام
میرا خیال ہے یہ تو جنابہ تھیں، کچھ دن میں غیر حاضر تھا تو کیا جناب ہو گئیں! ( مذاق)

جیا راؤ — دسمبر 2، 2009 10:54 صبح
اس خوبصورت غزل پر مبارکباد۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ۔۔۔ 
جیا راؤ — دسمبر 2، 2009 10:55 صبح
اچھی غزل ہے جیا راؤ صاحبہ، لاجواب
ہمت افزائی کا بے حد شکریہ۔۔۔ 
عین عین — دسمبر 2، 2009 12:03 شام
عمدہ ۔ خوب صورت۔ دھنک لہجہ ، رنگ ہی رنگ۔
جیا جی بہت زبردست تخلیق ہے آپ کی۔

شاعرہ کا نام کیا ہے؟
عین عین — دسمبر 2، 2009 12:05 شام
میں عشق ہوں سو مجھ پہ ہوئی ہے وفا تمام
تو حسن ہے تو ماتھے پہ تیور جفا کے رکھ !
!
۔
عمدہ۔ بہت اچھا
زھرا علوی — دسمبر 2، 2009 1:06 شام
ارے واہ جیا ۔۔۔ بہت خوبصورت غزل ہے۔۔۔

جیا راؤ — دسمبر 2، 2009 1:49 شام
بہت خوب عمدہ کاوش ہے مُبارکباد قبول فرمائیں ۔
شکریہ جناب۔۔۔ 
جیا راؤ — دسمبر 2، 2009 1:52 شام
ارے یہ میری نظروں سے کیسے بچی رہی؟
اچھی غزل ہے جیا۔ اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت تو نہیں ہے، کچھ الفاظ کی نشست البتہ بہتر کی جا سکتی ہے۔ جیسے یہ شعر
غیروں کو سونپ دے تو مجھے اپنے ہاتھ سے
جو یہ نہیں تو مجھ کو پھر اپنا بنا کے رکھ !
اس میں دوسرے مصرع میں یہ‘ کی بہ نسبت ’یوں‘ بہتر ہے۔
جو یوں نہیں تو مجھ کو پھر اپنا بنا کے رکھ !
مطلع کا بھی سوچو، اس کا بہتر روپ یوں ہو سکتا ہے کہ اتنا یقین کیوں ہے کہ وہ آج آئے گا، زیادہ حسن اس میں ہے کہ پتہ نہیں وہ کب آ جائے اس لئے ہر وقت انتظار کی شمعیں روشن رکھنے کی ضرورت ہے!!
بہت شکریہ اعجاز انکل آپ نے وقت نکال کر اصلاح کی۔۔۔۔۔
میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔۔ 
مغزل — دسمبر 2، 2009 3:16 شام
اللہ کا شکر ہے جیا واپس تو آئی ہیں، لڑائی بعد میں کروں گا۔
انیس فاروقی — دسمبر 2، 2009 3:18 شام
غزل کی روانی و پڑھنے میںجو نغمگی موجود ہے اس کا جواب نہیں ، مبارک قبول کیجئے ۔
ابن سعید — دسمبر 11، 2009 6:09 شام
چلئے بٹیا اس غزل کی ادھار مبارکباد بھی قبول فرمائیں۔
جیا راؤ — دسمبر 11، 2009 7:55 شام