ابھی امکان میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عارف عزیز

عظیم — نومبر 5، 2014 11:59 شام
شانتی رکھئے نیائے بھی ہوگا اور دلّی جا کے کیا کیجئے گا

بھائی بات نے دلی جانا تھا مجھے تو لاہور گئے ہوئے زمانہ ہو گیا ۔
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 6، 2014 2:28 صبح
شانتی رکھئے نیائے بھی ہوگا اور دلّی جا کے کیا کیجئے گا[/QUOT]
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھائیں گے کیا​
خالد محمود چوہدری — نومبر 6، 2014 2:48 صبح
ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھائیں گے کیا۔

رازق شہنشاہِ دلّی نہیں ، رزاق رب العالمین ہے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 6، 2014 3:19 صبح
رازق شہنشاہِ دلّی نہیں ، رزاق رب العالمین ہے
بے شک۔ لیکن رب العالمین نے شہنشاہ کو رزق تقسیم کرنے پر بھی معمور کیا ہے۔ اسی شہنشاہ سے اپنے وقت کے نبی نے فرمائش کی تھی کہ تو مجھے زمین کے خزانوں کی تقسیم پر لگادے۔
خالد محمود چوہدری — نومبر 6، 2014 4:28 صبح
گُلاب {گُلاب} (فارسی)
گُل، گُلاب
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ 1609ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم نکرہ (مذکر - واحد)
جمع غیر ندائی: گُلابوں {گُلا + بوں (و مجہول)}
1. ایک خوبصورت اور خوشبودار پھول نیز اس کے پودے کا نام، پودا کانٹے دار ہوتا ہے، پھول عموماً ہلکا سرخ (گلابی) ہوتا ہے، سرخ، زرد اور سفید رنگ کا بھی ہوتا ہے۔
"اس گلاب میں خوشبو نہیں تھی جو دوسرے گلاب میں ہوتی ہے۔"، [1]
2. گلاب کے پھولوں کا عرق جو کھانوں میں خوشبو کے لیے اور امراض میں دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
؎ گلاب جیسے وہ عارض نظر میں کیا آئے
ہماری آنکھوں سے اب تک گلاب ٹپکے ہے،
موتِیا {مو (و مجہول) + تِیا} (پراکرت)
صفت ذاتی
1. موتی کی مانند، موتی سے مشابہ، مثل گوہر، موتی کی طرح چمکیلا، موتی کے رنگ کا۔
اسم نکرہ
1. بیلے کی عمدہ قسم کا ایک سفید خوشبودار پھول جو چنبیلی سے موٹا اور زیادہ پنکھڑیوں کا ہوتا ہے اور جس کی منہ بند کلی موتی سے مشابہ ہوتی ہے۔ (لاط: Jasmine Zambac)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81-%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2.32325/page-2